🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 354
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 354
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ بَقِيرَةَ امْرَأَةِ الْقَعْقَاعِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الأَسْلَمِيِّ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ:" يَا هَؤُلاءِ! إِذَا سَمِعْتُمْ بِجَيْشٍ قَدْ خُسِفَ بِهِ قَرِيبًا، فَقَدْ أَظَلَّتِ السَّاعَةُ" .
سیدہ بقیرہ رضی اللہ عنہا جو سیدنا قعقع بن ابوحدود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں، وہ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! جب تم کسی لشکر کے بارے میں یہ سنو کہ اسے زمین میں دھنسا دیا گیا ہے، تو پھر (سمجھ لینا) قیامت قریب ہو گی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 354]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه أحمد في «مسنده» ، برقم: 27773، برقم: 27774، وأورده ابن حجر فى «المطالب العالية» ، برقم: 4501، وأخرجه الطبراني فى «الكبير» ، برقم: 522، 523»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥بقيرة الهلاليةصحابي
👤←👥محمد بن إبراهيم القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن إبراهيم القرشي ← بقيرة الهلالية
ثقة
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← محمد بن إبراهيم القرشي
صدوق مدلس
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← ابن إسحاق القرشي
ثقة حافظ حجة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 354 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:354
فائدہ:
اس حدیث میں قیامت کی علامات کبریٰ میں سے ایک علامت کا ذکر ہے۔ قریب ہی وھنسا دیا جائے گا کا مطلب ہے کہ اس لشکر کو سرزمین مدینہ یا مکہ کے قریب ہی زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ اس کی تفصیل اس حدیث میں ملاحظہ فرمائیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک پناہ لینے والا بیت اللہ میں پناہ لے گا، اس کی طرف ایک لشکر ارسال کیا جائے گا، وہ لشکر جب ایک کھلے میدان میں ہوگا تو اسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ میں نے سوال کیا۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کا کیا ہوگا جو مجبوراً اس لشکر میں شامل کیے گئے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انھیں بھی لشکر کے ساتھ ہی دھنسا دیا جائے گا، مگر روز قیامت ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔ (صحیح مسلم: 2882)
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 354]

Musnad al-Humaydi Hadith 354 in Urdu