مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 355
حدیث نمبر: 355
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: تَذَاكَرَ أَبِي وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ مَا يَتَوَضَّأُ مِنْهُ، فَذَكَرَ عُرْوَةُ مَسَّ الذَّكَرِ، فَقَالَ أَبِي: إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ مَا سَمِعْتُ بِهِ، قَالَ عُرْوَةُ : بَلَى، أَخْبَرَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ , أَنَّهُ سَمِعَ بُسْرَةَ بِنْتَ صَفْوَانَ ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ، فَلْيَتَوَضَّأْ" ، فَقُلْتُ لِمَرْوَانَ: فَإِنِّي أَشْتَهِي أَنْ تُرْسِلَ إِلَيْهَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، وَأَنَا شَاهِدٌ رَجُلا، أَوْ قَالَ حَرَسِيًا، فَجَاءَ الرَّسُولُ مِنْ عِنْدِهَا، فَقَالَ: إِنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ، فَلْيَتَوَضَّأْ".
عبداللہ بن ابوبکر کہتے ہیں: میرے والد اور عروہ بن زبیر کے درمیان اس بارے میں بحث ہو گئی کہ کون سے عمل کے بعد وضو کیا جاتا ہے (یعنی وضو کو توڑنے والی چیزیں کون سی ہیں؟)، تو عروہ نے ان میں شرمگاہ کو چھونے کا بھی ذکر کیا، تو میرے والد نے یہ بات بتائی یہ ایک ایسی چیز ہے، جس کے بارے میں، میں نے کچھ نہیں سنا۔ عروہ نے کہا: ایسا ہی ہے۔ مجھے مروان بن حکم نے یہ بات بتائی ہے کہ اس نے سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے وہ وضو کرے۔“ تو میں نے مروان سے کہا: میری یہ خواہش ہے، تم ان خاتون کو پیغام بھجواؤ، اس نے پیغام بھجوایا میں اس وقت وہاں موجود تھا۔ شاید اس نے ایک آدمی کو بھیجا یا کسی سپاہی کو بھیجا تو اس خاتون کے پاس وہ پیغام رساں واپس آیا اور بولا: انہوں نے یہ بات بیان کی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے اسے وضو کر لینا چاہئے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 355]
تخریج الحدیث: «إسناد فصلنا القول فيه فى موارد الظمآن، برقم 211، والحديث صحيح، وقد استوفينا تخريجه فى صحيح ابن حبان برقم 1112، 1113، 1119، 1110، 1119،. وفي موارد الظمآن برقم 212،211، 213، 214 وانظر تعليقاتنا عليها»
الرواة الحديث:
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 355 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:355
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شرم گاہ کو ہاتھ لگنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اس مسئلہ میں ایک حدیث ہے کہ شرمگاہ تمھارے جسم کا ایک حصہ ہے (اس کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔) (سنن ابی داود: 182 سنن الترمذی: 85، یہ حدیث صیح ہے) بظاہر ان دونوں احادیث میں تعارض ہے، ان میں تطبیق اس طرح سے دی جائے گی کہ اگر کپڑے کے اوپر سے شرمگاہ (آلہ تناسل) کو چھوا جائے تب وضو نہیں ٹوٹے گا لیکن اگر شرم گاہ کو بغیر کسی حائل (کپڑے، دستانے وغیرہ) کے چھوا جائے گا تو اس سے وضو ٹوٹ جائے گا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شرم گاہ کو ہاتھ لگنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اس مسئلہ میں ایک حدیث ہے کہ شرمگاہ تمھارے جسم کا ایک حصہ ہے (اس کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔) (سنن ابی داود: 182 سنن الترمذی: 85، یہ حدیث صیح ہے) بظاہر ان دونوں احادیث میں تعارض ہے، ان میں تطبیق اس طرح سے دی جائے گی کہ اگر کپڑے کے اوپر سے شرمگاہ (آلہ تناسل) کو چھوا جائے تب وضو نہیں ٹوٹے گا لیکن اگر شرم گاہ کو بغیر کسی حائل (کپڑے، دستانے وغیرہ) کے چھوا جائے گا تو اس سے وضو ٹوٹ جائے گا۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 355]
مروان بن الحكم القرشي ← بسرة بنت صفوان الأسدية