🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 359
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 359
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَعْبَدُ بْنُ كَعْبٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، وَكَانَتْ قَدْ صَلَّتِ الْقِبْلَتَيْنِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ الْخَلِيطَيْنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ أَنْ يُنْتَبَذَ، قَالَ:" انْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَتِهِ" .
معبد بن کعب اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: یہ وہ خاتون ہیں، جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی ہوئی ہے، وہ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو ملی ہوئی چیزوں کے استعمال سے منع کرتے ہوئے سنا ہے: یعنی کھجور اور کشمش ملا کر نبیذ تیار کی جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں میں سے ہر ایک کی الگ سے نبیذ تیار کرو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 359]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه أحمد في «مسنده» ، برقم: 24563، والطبراني فى «الكبير» ، برقم: 353، 354» ‏‏‏‏

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عميرة بنت جبير السلمية، أم معبدصحابي
👤←👥محمد بن كعب الأنصاري
Newمحمد بن كعب الأنصاري ← عميرة بنت جبير السلمية
ثقة
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← محمد بن كعب الأنصاري
صدوق مدلس
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← ابن إسحاق القرشي
ثقة حافظ حجة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 359 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:359
فائدہ:
اسلام کس قدر مکمل دین ہے کہ اس نے تمام چور دروازوں کو بند کر دیا ہے، کھجور اور منقیٰ دونوں کا طبعی مزاج گرم تر ہے۔ جب دونوں کو پانی میں اکٹھا کریں گئے تو خمیر زیادہ پیدا ہوگا، اس وجہ سے وہ شراب اور نشہ کی صورت جلد اختیار کر لے گا، اس لیے شریعت نے ان کی الگ الگ نبیذ بنانے کی تاکید کی ہے، اور ان دونوں کو اکٹھا کر کے نبیذ بنانے سے منع کیا ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 359]