🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 377
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 377
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَحْفَظُ بِحِفْظِ الرَّجُلِ الصَّالِحِ وَلَدَهُ , وَوَلَدَ وَلَدِهِ، وَدُوَيْرَتَهُ الَّتِي فِيهَا , وَالدُّوَيْرَاتِ حَوْلَهُ، فَمَا يَزَالُونَ فِي حِفْظٍ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" . قَالَ سُفْيَانُ: وَزَادَنِي فِيهِ: وَسِتْرٍ.
محمد بن منکدر بیان کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ کسی نیک آدمی کی وجہ سے اس کی اولاد، اور اس کی اولاد کی اولاد، اس کے گھر کو، اس کے آس پاس کے گھروں کو محفوظ رکھتا ہے۔ اور وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظت میں ہوتے ہیں۔ سفیان کہتے ہیں: میرے استاد نے میرے سامنے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں: اور وہ پردے میں ہوتے ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 377]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه النسائي فى «الكبرى» برقم: 11866، وأورده ابن حجر فى «المطالب العالية» ، برقم: 3199، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» ، برقم: 36564»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥محمد بن المنكدر القرشي، أبو عبد الله، أبو بكرثقة
👤←👥محمد بن سوقة الغنوي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن سوقة الغنوي ← محمد بن المنكدر القرشي
ثقة مرضي
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن سوقة الغنوي
ثقة حافظ حجة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 377 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:377
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایمان کا بہت مقام ومرتبہ ہے، جو شخص صحیح معنوں میں مومن ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اور اس کی اولا د کو فتنوں سے محفوظ فرماتا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: «نَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُورٍ» ‏‏‏‏ (الحج: 38) بے شک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی طرف سے دفاع کرتا ہے جو ایمان لائے۔
نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اولاد خواہ کیسی بھی ہو، گنہگار ہو یا نیک ہو، اگر اس کے والدین نیک ہیں تو اس کی نیکی اور صالحیت اولا د کے کام آئے گی۔
تنبيه: كـان أبـو هـما صالحا کی تفسیر میں حافظ عبدالسلام بن محمد رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے صالح بندوں کی وفات کے بعد بھی ان کی مومن اولاد کی خاص نگہداشت فرماتا ہے۔ (تفسير القرآن الكريم: 560/2)
مومن اولاد کی شرط لگانا مسند حمیدی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر (376) کے خلاف ہے، خضر علیہ السلام کے واقعے میں ان لڑکوں کا نیک ہونا ثابت نہیں ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 377]

Musnad al-Humaydi Hadith 377 in Urdu