🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
(مذی کے خروج پر وضو کی کافی ہونے کی ہدایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 39
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَ بْنَ أَنَسٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ، يَقُولُ: كُنْتُ أَجِدُ مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً، فَأَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتِ ابْنَتُهُ عِنْدِي، فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ، فَأَمَرْتُ عَمَّارًا فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" إِنَّمَا يَكْفِي مِنْهُ الْوُضُوءُ" .
عائش بن انس بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو کوفہ کے منبر پر یہ بات کرتے ہوئے سنا۔ میری مذی مکثرت خارج ہوا کرتی تھی میں اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنا چاہتا تھا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میری اہلیہ تھیں اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کرتے ہوئے مجھے شرم محسوس ہوتی تھی، تو میں نے عمار رضی اللہ عنہ (بن یاسر) کو یہ ہدایت کی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس (مذی کے خروج پر) صرف وضو کر لینا کافی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 39]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 354/1 برقم 456»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥عائش بن أنس البكري
Newعائش بن أنس البكري ← علي بن أبي طالب الهاشمي
مقبول
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← عائش بن أنس البكري
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 39 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:39
فائدہ:
اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ داماد کو اپنے سسر اور ان کے اہل وعیال کے سامنے شرم وحیا کے مسائل بیان نہیں کرنے چاہئیں۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ مذی کے نکلنے کی وجہ سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ صحیح مسلم (33) میں ہے: «يغسل ذكره، ويتوضأ» وہ اپنی شرمگاہ کو دھوئے اور وضو کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مذی نکلنے کی وجہ سے شرم گاہ کو بھی دھونا چاہیے۔ مذی کپڑے کے جس حصے کو لگی ہو، وہاں پانی کا چھینٹا مار دینا کافی ہے۔ (سنن ابی داؤد: 210، حسن) اور اس پر اجماع ہے کہ مذی ناپاک ہے۔ (المجموع للنووی: 552/2)
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 39]

Musnad al-Humaydi Hadith 39 in Urdu