🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
(قرآن کے علاوہ صحیفے میں دیت اور قیدی کی رہائی کے احکام)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 40
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، حَدَّثنا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ ، سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو جُحَيْفَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : هَلْ عِنْدَكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ سِوَى الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ:" لا! وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، إِلا أَنْ يُعْطِيَ اللَّهُ عَبْدًا فَهْمًا فِي كِتَابِهِ، أَوْ مَا فِي الصَّحِيفَةِ"، قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ:" الْعَقْلُ، وَفِكَاكُ الأَسِيرِ، وَأَنْ لا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ" .
ابوحجیفہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آپ کے پاس قرآن کے علاوہ کوئی اور ایسی چیز ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملی ہو، تو انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ اس ذات کی قسم! جس نے دانے کو چیرا ہے اور جان کو پیدا کیا ہے (ہمارے پاس ایسا کچھ نہیں ہے) صرف وہ چیز ہے، جو اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو اپنی کتاب کے بارے میں فہم عطا کر دیتا ہے یا وہ کچھ ہے، جو اس صحیفے میں موجود ہے۔ میں نے دریافت کیا: اس صحیفے میں کیا ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیت کے بارے میں، قیدی کو رہائی دلانے کے بارے میں (احکام ہیں اور یہ حکم ہے کہ) کوئی مسلمان کسی کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 40]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه أحمد: 79/1، والبخاري فى العلم: 111، وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 382/1 برقم 338»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥وهب بن وهب السوائي، أبو جحيفة
Newوهب بن وهب السوائي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
صحابي
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← وهب بن وهب السوائي
ثقة
👤←👥مطرف بن طريف الحارثي، أبو بكر، أبو عبد الرحمن
Newمطرف بن طريف الحارثي ← عامر الشعبي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← مطرف بن طريف الحارثي
ثقة حافظ حجة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 40 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:40
فائدہ:
اس حدیث میں یہ ذکر ہوا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ان کے دور میں بھی بعض لوگوں نے غلط باتیں مشہور کر دی تھیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ”علم باطن“ عطا فرمایا تھا۔ اس غلط عقیدے کی تردید سید ناعلی رضی اللہ عنہ نے خود فرمائی اور وضاحت کر دی کہ میرے پاس قرآن مجید کا فہم ہے، اور کچھ احادیث میرے پاس ہیں۔ ان میں یہ چیزیں موجود ہیں: قصاص کے احکام، قیدی آزاد کرنے کے احکام، اور یہ کہ کسی مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح بعض لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف ”علم جفر“ بھی منسوب کیا ہے، جس کے ذریعے لوگ اپنے خیال میں ماضی اور مستقبل کی غیب کی باتیں معلوم کرتے ہیں۔ یہ سب تو ہم پرستی اور بے بنیاد چیزیں ہیں جن کا قرآن و حدیث میں کہیں ذکر نہیں ہے۔ گمراہ فرقے اپنے باطل افکار و نظریات کو ثابت کرنے کے لیے کس طرح عجیب وغریب من گھڑت واقعات کا سہارا لیتے ہیں، اللہ تعالی ہمیں ان سے محفوظ رکھے، آمین۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 40]

Musnad al-Humaydi Hadith 40 in Urdu