🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 433
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 433
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا دَاوُدُ بْنُ شَابُورَ ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي خَلِيلٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ يُكَفِّرُ هَذِهِ السَّنَةَ وَالسَّنَةَ الَّتِي تَلِيهَا، وَصِيَامُ عَاشُورَاءَ يُكَفِّرُ سَنَةً" . قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ دَاوُدُ: وَكَانَ عَطَاءٌ لا يَصُومُهُ حَتَّى بَلَغَهُ هَذَا الْحَدِيثُ.
سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: عرفہ کے دن روزہ رکھنا اس سال کے اور اس کے بعد والے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے اور عاشورہ کے دن روزہ رکھنا ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔ سفیان کہتے ہیں: داؤد نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، عطاء یہ روزہ نہیں رکھا کرتے تھے، یہاں تک کہ جب انہیں یہ حدیث پہنچی (تو اس کے بعد انہوں نے اس دن روزہ رکھنا شروع کیا)۔ [مسند الحميدي/حدیث: 433]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، غير أنه منقطع، أبو الخليل صالح بن أبى مريم لم يسمع أبا قتادة، وأبو قزعة هو سويد بن حجير. . .ولكن أخرجه أحمده 308، 310 - 311، و مسلم فى الصيام 1162، وأبو داود فى الصوم 2426، والترمذي فى الصوم 752، وقد استوفيت تخريجه فى صحيح ابن حبان برقم 3631، 3632»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الحارث بن ربعي السلمي، أبو قتادةصحابي
👤←👥صالح بن أبي مريم الضبعي، أبو الخليل
Newصالح بن أبي مريم الضبعي ← الحارث بن ربعي السلمي
ثقة
👤←👥سويد بن حجير الباهلي، أبو قزعة
Newسويد بن حجير الباهلي ← صالح بن أبي مريم الضبعي
ثقة
👤←👥داود بن شابور المكي، أبو سليمان
Newداود بن شابور المكي ← سويد بن حجير الباهلي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← داود بن شابور المكي
ثقة حافظ حجة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 433 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:433
فائدہ:
ہر ملک والا اپنے ملک کی نو ذوالحجہ کا روزہ رکھے گا، اور تمام معاملات میں اپنے اپنے ملک کی تاریخ کا ہی اعتبار کیا جائے گا، اختلاف مطالع معتبر ہے، بعض ایسے بھی ملک ہیں جن کی تاریخ سعودی عرب سے ایک دن آگے جا رہی ہے، تو وہ اپنی تاریخ کے مطابق ہی نو ذوالحجہ کا روزہ رکھیں گے، فافھم
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 433]