مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 434
حدیث نمبر: 434
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ امْرَأَةً أَظُنُّهَا امْرَأَةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، يَشُكُّ سُفْيَانُ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ كَانَ يَأْتِيهِمْ فَيَتَوَضَّأُ عِنْدَهُمْ، فَيُصْغِي الإِنَاءَ لِلْهِرِّ، فَيَشْرَبُ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ سُؤْرِهَا، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنَا أَنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، فَقَالَ: " إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ وَالطَّوَّافَاتِ عَلَيْكُمْ" .
عبداللہ بن ابوقتادہ کی اہلیہ بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ ان کے ہاں آئے، انہوں نے ان کے ہاں وضو کرنا چاہا تو انہوں نے اپنا برتن بلی کی طرف انڈیل دیا، بلی نے اس میں سے پانی پیا۔ ہم نے ان سے بلی کے جوٹھے کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بات بتائی ہے کہ یہ نجس نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”یہ تمہارے ہاں گھر میں آنے جانے والے جانوروں میں سے ایک ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 434]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف فيه جهالة، ولكن أخرجه مالك فى الطهارة 13، باب: الطهور للوضوء، من طريق إسحاق بن عبد الله بن أبى طلحة، عن حميدة بنت عبيد بن رفاعة، عن كبشة بنت كعب بن مالك وكالت تحت أبى قتادة -: أن أبا قتادة.... وهذا إسناد جيد وقد استوفينا تخريجه فى صحيح ابن حبان برقم 1299، وفي موارد الظمآن برقم 121»
الرواة الحديث:
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 434 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:434
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ بلی کا جوٹھا نجس نہیں ہے، سنن الدارقطنی میں ہے کہ جس برتن میں بلی منہ مار جائے یا اس سے پی جائے، اس برتن کو ایک دفعہ دھولیا جائے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ بلی کا جوٹھا نجس نہیں ہے، سنن الدارقطنی میں ہے کہ جس برتن میں بلی منہ مار جائے یا اس سے پی جائے، اس برتن کو ایک دفعہ دھولیا جائے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 434]
عبد الله بن أبي قتادة الأنصاري ← الحارث بن ربعي السلمي