🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 459
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 459
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا تُجْزِئُ صَلاةٌ لا يُقِيمُ الرَّجُلُ فِيهَا صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ" . قَالَ سُفْيَانُ: هَكَذَا، قَالَ الأَعْمَشُ: لا تُجْزِئُ لا تُجْزِئُ.
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ایسی نماز درست نہیں ہوتی، جس میں آدمی رکوع اور سجدے کے دوران اپنی پشت کو درست نہیں رکھتا۔ سفیان کہتے ہیں: اعمش نامی راوی نے یہ روایت اسی طرح بیان کی ہے۔ روایت کے الفاظ «لَا تُرْجَى» اس کی امید نہیں کی جا سکتی، یعنی وہ درست نہیں ہوتی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 459]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 591، 592، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1892، 1893، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1026، 1110، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 703، 1101 وأبو داود فى «سننه» برقم: 855، والترمذي فى «جامعه» برقم: 265، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1366، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 870، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2612، 2613، 2614، 2770، 2771، والدارقطني فى «سننه» برقم: 1315، 1316، وأحمد فى «مسنده» برقم: 17348»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو مسعود الأنصاري، أبو مسعودصحابي
👤←👥عبد الله بن سخبرة الأزدي، أبو معمر
Newعبد الله بن سخبرة الأزدي ← أبو مسعود الأنصاري
ثقة
👤←👥عمارة بن عمير التيمي
Newعمارة بن عمير التيمي ← عبد الله بن سخبرة الأزدي
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← عمارة بن عمير التيمي
ثقة حافظ
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1028
لا تجزئ صلاة لا يقيم الرجل فيها صلبه في الركوع والسجود
سنن النسائى الصغرى
1112
لا تجزئ صلاة لا يقيم الرجل فيها صلبه في الركوع والسجود
جامع الترمذي
265
لا تجزئ صلاة لا يقيم فيها الرجل يعني صلبه في الركوع والسجود
سنن أبي داود
855
لا تجزئ صلاة الرجل حتى يقيم ظهره في الركوع والسجود
سنن ابن ماجه
870
لا تجزئ صلاة لا يقيم الرجل فيها صلبه في الركوع والسجود
مسندالحميدي
459
لا تجزئ صلاة لا يقيم الرجل فيها صلبه في الركوع والسجود
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 459 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:459
فائدہ:
نماز مکمل اطمینان اور اعتدال کے ساتھ پڑھنی چاہیے، انسان دنیاوی کام تو سلیقے سے کرتا ہے، لیکن نماز وغیرہ جلدی جلدی ادا کر کے فارغ ہو جاتا ہے، ایسا نہیں کرنا چاہیے، انسان اللہ کی عبادت بھی قرآن و حدیث کے مطابق مکمل آداب و احترام کے ساتھ کرے، کیونکہ اس پر صحيح عقیدے کے بعد دنیا و آخرت کی بنیاد ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 459]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1028
رکوع میں پیٹھ برابر رکھنے کا بیان۔
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسی نماز کافی نہیں ہوتی جس میں آدمی رکوع و سجود میں اپنی پیٹھ برابر نہ رکھے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1028]
1028۔ اردو حاشیہ: پشت یا کمر سیدھا کرنے یا رکھنے سے مراد رکوع اور سجدے میں اطمینان کرنا ہے جو حدیث کی رو سے واجب ہے مگر احناف کی اکثریت اسے ضروری نہیں سمجھتی، اس لیے کہ لغت میں رکوع اور سجدے کے معنیٰ میں اطمینان نہیں لکھا۔ کیا ان حضرات سے یہ پوچھا: جا سکتا ہے کہ نماز قرآن و سنت سے ماخوذ ہے یا لغت سے؟ تعجب نہیں کہ لغت لکھے تو واجب، حدیث میں آئے تو غیر واجب؟ استغفراللہ! انا للہ و انا الیه راجعون۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1028]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1112
سجدے میں پیٹھ سیدھی رکھنے کا بیان۔
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نماز کفایت نہیں کرتی جس میں آدمی رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1112]
1112۔ اردو حاشیہ: دیکھیے حدیث نمبر 1028۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1112]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث870
نماز میں رکوع کا بیان۔
ابومسعود (عقبہ بن عمرو بن ثعلبہ انصاری) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نماز درست نہیں ہوتی ہے جس کے رکوع و سجود میں آدمی اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 870]
اردو حاشہ:
فوائدو مسائل:

(1)
رکوع اور سجدے میں کمر سیدھی کرنے کا مطلب اطمینان سے رکوع اور سجدہ ادا کرنا ہے۔
یعنی رکوع کرتے وقت پوری طرح جھک جائے۔
جس طرح رکوع کا صحیح طریقہ ہے۔
اورسجدہ کرتے وقت پوری طرح اطمینان سے سجدہ کرے۔
جس طرح سجدے کا مسنون طریقہ ہے۔

(2)
نماز کے ارکان اطمینان اور اعتدال کے ساتھ ادا نہ کرنے سے نماز قبول نہیں ہوتی۔
اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم دیا تھا۔
جس نے نماز کے افعال جلدی جلدی بلا اطمینان ادا کیے تھے۔ دیکھیے: (صحیح البخاري، الأذان، باب امر النبی صلی اللہ علیہ وسلم الذی لا یتم رکوعه بالاعادۃ، حدیث: 793)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 870]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 265
جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے اس کے حکم کا بیان۔
ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نماز کافی نہ ہو گی جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 265]
اردو حاشہ:
1؎:
اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں طمانینت اور تعدیل ارکان واجب ہے،
اور جو لوگ اس کے وجوب کے قائل نہیں ہیں وہ کہتے ہیں اس سے نص پر زیادتی لازم آئے گی اس لیے کہ قرآن مجید میں مطلق سجدہ کا حکم ہے اس میں طمانینت داخل نہیں یہ زیادتی جائز نہیں،
اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ زیادتی نہیں بلکہ سجدہ کے معنی کی وضاحت ہے کہ اس سے مراد سجدہ ٔ لغوی نہیں بلکہ سجدہ ٔ شرعی ہے جس کے مفہوم میں طمانینت بھی داخل ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 265]