مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 464
حدیث نمبر: 464
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثنا كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ الَّتِي أَهْدَاهَا لَهُ الْجُذَامِيُّ، فَلَمَّا وَلَّى الْمُسْلِمُونَ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَبَّاسُ نَادِ، قُلْ: يَا أَصْحَابَ السَّمُرَةِ، يَا أَصْحَابَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ! وَكُنْتُ رَجُلا صَيِّتًا، فَقُلْتُ: يَا أَصْحَابَ السَّمُرَةِ، يَا أَصْحَابَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ! فَرَجَعُوا عَطْفَةً كَعَطْفَةِ الْبَقَرَةِ عَلَى أَوْلادِهَا، وَارْتَفَعَتِ الأَصْوَاتُ وَهُمْ يَقُولُونَ: مَعْشَرَ الأَنْصَارِ! يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ! ثُمَّ قُصِرْتُ الدَّعْوَةُ عَلَى بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ: يَا بَنِي الْحَارِثِ، قَالَ: وَتَطَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ، فَقَالَ:" هَذَا حِينَ حَمِيَ الْوَطِيسُ وَهُوَ يَقُولُ: قُدُمًا يَا عَبَّاسُ"، ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَيَاتٍ، فَرَمَى بِهِنَّ، ثُمَّ قَالَ:" انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ" ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: وَرَبِّ مُحَمَّدٍ. قَالَ سُفْيَانُ: حَدَّثَنَاهُ الزُّهْرِيُّ بِطُولِهِ، فَهَذَا الَّذِي حَفِظْتُ مِنْهُ.
کثیر بن عباس اپنے والد سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: غزوہ حنین کے موقع پر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس خچر پر سوار تھے، جو جذامی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے کے طور پر دیا تھا۔ جب مسلمان پیچھے ہٹنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عباس! آپ بلند آواز میں پکاریں اور کہیں اے درخت! (کے نیچے بیعت کرنے والو) اے سورہ بقرہ (پر ایمان رکھنے والو)!“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ایک ایسا شخص تھا، جس کی آواز بلند تھی، تو میں نے بلند آواز میں پکارا، اے درخت (کے نیچے بیعت کرنے والو)! اے سورہ بقرہ (پر ایمان رکھنے والو)! تو وہ لوگ یکبارگی یوں پلٹے جس طرح گائے اپنی اولاد کی طرف پلٹتی ہے۔ آوزیں بلند ہوئیں اور وہ لوگ یہ کہہ رہے تھے، اے انصار کے گروہ! اے انصار کے گروہ! پھر دعوت کو مختصر کر کے بنو حارث بن خزرج کی طرف کیا گیا اور کہا گیا: اے بنو حارث! سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار رہتے ہوئے جنگ کا جائزہ لیتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اب جنگ اچھی طرح بھڑک اٹھی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا: ”اے عباس! آپ آگے بڑھیں۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند کنکریاں پکڑیں اور انہیں پھینکا اور یہ فرمایا: ”رب کعبہ کی قسم! یہ پسپا ہو جائیں گے۔“ سفیان نامی راوی بعض اوقات یہ لفظ نقل کرتے ہیں: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار کی قسم! سفیان کہتے ہیں: زہری نے یہ طویل حدیث ہمیں سنائی تھی، لیکن اس کا یہ حصہ مجھے یاد رہ گیا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 464]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1775، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 7049، والحاكم فى «مستدركه» ، برقم: 5147، 5459، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8593، 8599، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 1800 برقم: 1801، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6708، والبزار فى «مسنده» برقم: 1301، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9741»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥العباس بن عبد المطلب الهاشمي، أبو الفضل | صحابي | |
👤←👥كثير بن العباس الهاشمي، أبو تمام كثير بن العباس الهاشمي ← العباس بن عبد المطلب الهاشمي | صحابي | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← كثير بن العباس الهاشمي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ حجة |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 464 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:464
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ حنین میں خود شریک ہوئے تھے، خچر پر سواری کرنا درست ہے، تحفہ دینا اور قبول کرنا چاہیے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر اسی وقت لبیک کہتے تھے، لڑائی کو فائده آگ سے تعبیر کرنا ٹھیک ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ حنین میں خود شریک ہوئے تھے، خچر پر سواری کرنا درست ہے، تحفہ دینا اور قبول کرنا چاہیے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر اسی وقت لبیک کہتے تھے، لڑائی کو فائده آگ سے تعبیر کرنا ٹھیک ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 464]
كثير بن العباس الهاشمي ← العباس بن عبد المطلب الهاشمي