🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 473
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 473
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرٌو ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْبَدٍ ، وَكَانَ مِنْ أَصْدَقِ مَوَالِي ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، وَهُوَ يَقُولُ: " لا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ، وَلا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ أَنْ تُسَافِرَ إِلا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ"، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي اكْتَتَبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا، وَإِنَّ امْرَأَتِي انْطَلَقَتْ حَاجَّةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْطَلِقْ فَاحْجُجْ مَعَ امْرَأَتِكَ" . قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ الْكُوفِيُّونَ يَأْتُونَ أَبَدًا عُمَرَ، وَيَسْأَلُونَهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، يَقُولُونَ: كَيْفَ حَدِيثُ اكْتَتَبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا؟.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہوئے سنا: کوئی مرد کسی عورت سے تنہا ہرگز نہ رہے، اور کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ سفر پر جائے ماسوائے اس کے کہ اس کے ساتھ کوئی محرم عزیز ہونا چاہئے۔ ایک صاحب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرا نام فلاں، فلاں جنگ میں حصہ لینے کے لیے درج کر لیا گیا ہے، اور میری بیوی حج کرنے کے لیے جا رہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: کوفہ سے تعلق رکھنے والے لوگ (میرے استاد) عمرو بن دینار مکی کی خدمت میں آیا کرتے تھے اور ان سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کرتے تھے۔ وہ یہ کہتے تھے، وہ حدیث کیسی ہے، جس میں یہ ہے کہ میرا نام فلاں فلاں جنگ میں حصہ لینے کے لیے لکھا گیا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 473]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1862، 3006، 3061، 5233، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1341، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2529، 2530، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2731، 3756،3757، 5589، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 9174، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2900، وأحمد فى «مسنده» برقم: 1959، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2391، 2516»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥نافذ مولى ابن عباس، أبو معبد
Newنافذ مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← نافذ مولى ابن عباس
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3061
ارجع فحج مع امرأتك
سنن ابن ماجه
2900
اكتتبت في غزوة كذا وكذا وامرأتي حاجة قال فارجع معها
مسندالحميدي
473
لا يخلون رجل بامرأة ولا يحل لامرأة أن تسافر إلا ومعها ذو محرم
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 473 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:473
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کسی غیر محرم مرد کے ساتھ تنہا سفر نہیں کر سکتی، خواہ سفر حج ہی کیوں نہ ہو، محرم رشتے داروں کے علاوہ تمام رشتے داروں، جو غیر محرم ہوں، ان سے عورت کو پردہ کرنا چاہیے، آج کل بہت غلط رواج بن چکا ہے کہ جب شادی ہوتی ہے تو عورت پردے کے ساتھ خاوند کے گھر میں داخل ہوتی ہے، خاوند کہتا ہے کہ یہ میرا بھائی ہے، اس سے کیا پردہ کرنا، یہ میرے چچا کا بیٹا ہے نہیں بلکہ جو اللہ تعالیٰ نے محرم رشتے بنائے ہیں، صرف ان سے عورت پردے کو ہٹا سکتی ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 473]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2900
عورت محرم اور ولی کے بغیر حج نہ کرے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرا نام فلاں فلاں غزوہ میں جانے کے لیے درج کر لیا گیا ہے، اور میری بیوی حج کرنے جا رہی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جاؤ اس کے ساتھ حج کرو۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2900]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سفر میں محرم کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ اس عذر کی وجہ سے جہاد میں نہ جانےکی اجازت مل گئی۔

(2)
حج کے سفر میں اگر عورت کا کوئی محرم ساتھ جانے والا نہ ہو یا محرم موجود ہو لیکن وہ حج کا خرچ برداشت نہ کرسکتا ہو اور نہ عورت ہی اس کا خرچ برداشت کرسکتی ہوتو عورت پر حج فرض نہیں رہے گا کیونکہ استطاعت حاصل نہیں رہی۔

(3)
بعض علماء نے فرمایا اگر دوسری عورتیں اپنے محرموں کے ساتھ جارہی ہوں تو ان کے قافلے کے ساتھ وہ عورت بھی جا سکتی ہے جس کا محرم نہیں یا اس کے محرم کو سفر حج کی طاقت نہیں کیونکہ اس صورت میں عورت کی عزت وعصمت کے لیے وہ خطرات بالعموم نہیں رہتے جن کے پیش نظر عورت کو محرم کے بغیر سفر کرنے سے روکا گیا ہے۔
واللہ أعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2900]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3061
3061. حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !فلاں فلاں جنگ میں میرا نام لکھا گیا ہے جبکہ میری بیوی حج پر جانے کے لیے تیار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم واپس چلے جاؤ اور اپنی بیوی کے ہمراہ حج کرو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3061]
حدیث حاشیہ:
اس سے بھی اسم نویسی کا ثبوت ہوا‘ یہی ترجمہ باب ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ کوئی عورت حج کو جائے تو ضروری ہے کہ اس کا خاوند یا کوئی محرم اس کے ساتھ ہو۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3061]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3061
3061. حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !فلاں فلاں جنگ میں میرا نام لکھا گیا ہے جبکہ میری بیوی حج پر جانے کے لیے تیار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم واپس چلے جاؤ اور اپنی بیوی کے ہمراہ حج کرو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3061]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث سے بھی مردم شماری کا ثبوت ملتا ہے خاص طور پر جہاد میں شرکت کرنے والوں کا باضابطہ اندراج ہونا چاہیے تاکہ مال غنیمت کی تقسیم یا جنگ کے بعد شہداء کا پتہ چل سکے۔

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کوئی عورت حج کو جائے تو ضروری ہے کہ اس کے ساتھ اس کا خاوند یا اور کوئی محرم ہو اس کے بغیر اس کا سفر حج جائز نہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3061]

Musnad al-Humaydi Hadith 473 in Urdu