🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 553
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 553
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ كَمْ مَرَّةٍ لا أُحْصِيهِ لا أَعُدُّهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ:" سُئِلَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ، وَكَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ، كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ حِينَ دَفَعَ؟ قَالَ: كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ؟ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ" . قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ هِشَامٌ: وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ.
ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا میں اس وقت ان کے پہلو میں موجود تھا، وہ عرفہ سے مزدلفہ آنے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر بیٹھے رہے تھے۔ (سوال یہ تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس رفتار سے چلے تھے؟ تو انہوں نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم درمیانی رفتار سے چلتے رہے تھے، جب کوئی بلندی آتی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رفتار ذرا تیز کر دیتے تھے۔ سفیان نے ہشام کا یہ قول نقل کیا ہے نص کا لفظ عنق کے مقابلے میں ذرا زیادہ تیز رفتار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 553]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 139، 181، 1666، 1667، 1669، 1672، 2999، 4413، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1280، 1286، ومالك فى «الموطأ» برقم:، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 64، 973، 2824، 2844، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1594، 3857، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1715، 6597، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 608، 3011، 3018، 3023، 3024، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1592، 3993، 4000، 4004، 4005، 4006، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1921، 1923،1924، 1925، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1922، 1923، 1924، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3017، 3019، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 390، 9580، 9581، 9582، 9583، 9584، 9595، 9596، 9628، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 1854، 22156،22163، 22170، 22174، 22175، 22179، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 658، 663، 670، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6722، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 14232، 15893»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أسامة بن زيد الكلبي، أبو حارثة، أبو يزيد، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو زيدصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← أسامة بن زيد الكلبي
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1921
الصلاة أمامك ركب حتى قدمنا المزدلفة فأقام المغرب ثم أناخ الناس في منازلهم ولم يحلوا حتى أقام العشاء وصلى ثم حل الناس
مسندالحميدي
553
كان يسير العنق؟ فإذا وجد فجوة نص
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 553 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:553
فائدہ:
اس حدیث میں ڈرائیونگ کے بعض آداب بیان ہوئے ہیں کہ جب راستہ خالی ہوتو سواری کی سپیڈ تیز کر دینی چاہیے، جبکہ رش والی جگہ پر درمیانی چال دوڑانی چاہیے، اس میں خیر ہے۔ بعض لوگ اس قدر تیز ڈرائیونگ کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ، بلکہ وہ اپنی جان پر ظلم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، ردیف سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے سوار کو کہتے ہیں۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 553]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1921
عرفات سے لوٹنے کا بیان۔
کریب کہتے ہیں کہ میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا: جس شام کو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہو کر آئے تھے آپ نے کیا کیا کیا؟ وہ بولے: ہم اس گھاٹی میں آئے جہاں لوگ اپنے اونٹ رات کو قیام کے لیے بٹھاتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی بیٹھا دی، پھر پیشاب کیا، (زہیر نے یہ نہیں کہا کہ پانی بہایا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگایا اور وضو کیا، جس میں زیادہ مبالغہ نہیں کیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نماز، (پڑھی جائے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز آگے چل کر (پڑھیں گے)۔‏‏‏‏ اسامہ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے یہاں تک کہ مزدلفہ آئے، وہاں آپ نے مغرب پڑھی پھر لوگوں نے اپنی سواریاں اپنے ٹھکانوں پر بٹھائیں یہاں تک کہ عشاء کی اقامت ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی، پھر لوگوں نے اونٹوں سے اپنے بوجھ اتارے، (محمد کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ کریب کہتے ہیں) پھر میں نے پوچھا: صبح ہوئی تو آپ لوگوں نے کیسے کیا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سوار ہوئے، اور میں پیدل قریش کے لوگوں کے ساتھ ساتھ چلا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1921]
1921. اردو حاشیہ: مزدلفہ میں مغرب اورعشاء کی نمازیں جمع کرکے ہی پڑھی گئی تھیں۔دونوں نمازوں کے مابین سواریوں کو بٹھانا یا تو سواریوں پرشفقت کی غرض سے تھا یا یہ کہ کہیں وہ بکھر نہ جایئں۔ بہرحال یہ معمولی سا کام (جمع بین الصلواتین) کے منافی نہیں سمجھا جاسکتا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1921]

Musnad al-Humaydi Hadith 553 in Urdu