علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
64. باب الدفعة من عرفة
باب: عرفات سے لوٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1921
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ. ح. وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ زُهَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، قُلْتُ: أَخْبِرْنِي كَيْفَ فَعَلْتُمْ أَوْ صَنَعْتُمْ عَشِيَّةَ رَدِفْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنِيخُ النَّاسُ فِيهِ لِلْمُعَرَّسِ فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ ثُمَّ بَالَ، وَمَا قَالَ زُهَيْرٌ: أَهْرَاقَ الْمَاءَ ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ جِدًّا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةُ، قَالَ: الصَّلَاةُ أَمَامَكَ، قَالَ: رَكِبَ حَتَّى قَدِمْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ وَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّى أَقَامَ الْعِشَاءَ وَصَلَّى، ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ". زَادَ مُحَمَّدٌ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ؟ قَالَ: رَدِفَهُ الْفَضْلُ وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَى رِجْلَيَّ.
کریب کہتے ہیں کہ میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا: جس شام کو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہو کر آئے تھے آپ نے کیا کیا کیا؟ وہ بولے: ہم اس گھاٹی میں آئے جہاں لوگ اپنے اونٹ رات کو قیام کے لیے بٹھاتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی بیٹھا دی، پھر پیشاب کیا، (زہیر نے یہ نہیں کہا کہ پانی بہایا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگایا اور وضو کیا، جس میں زیادہ مبالغہ نہیں کیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نماز، (پڑھی جائے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز آگے چل کر (پڑھیں گے)“۔ اسامہ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے یہاں تک کہ مزدلفہ آئے، وہاں آپ نے مغرب پڑھی پھر لوگوں نے اپنی سواریاں اپنے ٹھکانوں پر بٹھائیں یہاں تک کہ عشاء کی اقامت ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی، پھر لوگوں نے اونٹوں سے اپنے بوجھ اتارے، (محمد کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ کریب کہتے ہیں) پھر میں نے پوچھا: صبح ہوئی تو آپ لوگوں نے کیسے کیا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سوار ہوئے، اور میں پیدل قریش کے لوگوں کے ساتھ ساتھ چلا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1921]
جناب کریب بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کہا: ”مجھے یہ بتائیں کہ اس شام جب آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، آپ لوگوں نے کیسے کیا؟“ انہوں نے بتایا کہ ہم اس گھاٹی میں آئے جس میں لوگ اپنی سواریاں بٹھاتے ہیں۔ وہ جگہ معرس کہلاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی بٹھائی، پھر پیشاب کیا۔ اسامہ رضی اللہ عنہ نے «أَهْرَاقَ الْمَاءَ» کے الفاظ استعمال نہیں کیے۔ (یعنی ”پانی بہایا“ نہیں کہا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب کیا اور وضو فرمایا جس میں کوئی مبالغہ نہ تھا۔ (یعنی ہلکا وضو کیا، اعضاء کو ایک دو بار دھویا) میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! نماز؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز تمہارے آگے ہے۔“ (آگے چل کر پڑھیں گے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے حتیٰ کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھائی۔ پھر لوگوں نے سواریوں کو اپنے اپنے پڑاؤ پر بٹھایا مگر ان کے (پالان اور کجاوے) نہیں کھولے حتیٰ کہ عشاء کی اقامت کہلوائی اور نماز پڑھائی۔ پھر لوگوں نے (اپنی سواریوں کو) کھولا۔ محمد بن کثیر نے اپنی روایت میں مزید کہا: میں نے پوچھا: ”جب تم لوگوں نے صبح کی، تو کیسے کیا تھا؟“ انہوں نے کہا: ”فضل رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار ہوئے اور میں قریش کے ان افراد کے ساتھ پیدل چلا گیا جو دیگر لوگوں سے پہلے روانہ ہوئے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1921]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/ الحج 207 (3033)، سنن ابن ماجہ/المناسک 59 (3019)، (تحفة الأشراف: 116)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 35 (139)، والحج 95 (1666)، صحیح مسلم/الحج 47 (1280)، سنن الترمذی/الحج 54 (885)، موطا امام مالک/الحج 65 (197)، مسند احمد (5/200، 202، 208،210)، سنن الدارمی/المناسک 51 (1922) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1280)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1921
| الصلاة أمامك ركب حتى قدمنا المزدلفة فأقام المغرب ثم أناخ الناس في منازلهم ولم يحلوا حتى أقام العشاء وصلى ثم حل الناس |
مسندالحميدي |
553
| كان يسير العنق؟ فإذا وجد فجوة نص |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1921 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1921
1921. اردو حاشیہ: مزدلفہ میں مغرب اورعشاء کی نمازیں جمع کرکے ہی پڑھی گئی تھیں۔دونوں نمازوں کے مابین سواریوں کو بٹھانا یا تو سواریوں پرشفقت کی غرض سے تھا یا یہ کہ کہیں وہ بکھر نہ جایئں۔ بہرحال یہ معمولی سا کام (جمع بین الصلواتین) کے منافی نہیں سمجھا جاسکتا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1921]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:553
553- ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا میں اس وقت ان کے پہلو میں موجود تھا، وہ عرفہ سے مزدلفہ آنے تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار پر بیٹھے رہے تھے۔ (سوال یہ تھا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس رفتار سے چلے تھے؟ تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم درمیانی رفتار سے چلتے رہے تھے، جب کوئی بلندی آتی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رفتار ذرا تیز کردیتے تھے۔ سفیان نے ہشام کا یہ قول نقل کیا ہے نص کا لفظ عنق کے مقابلے میں ذرا زیادہ تیز رفتار کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:553]
فائدہ:
اس حدیث میں ڈرائیونگ کے بعض آداب بیان ہوئے ہیں کہ جب راستہ خالی ہوتو سواری کی سپیڈ تیز کر دینی چاہیے، جبکہ رش والی جگہ پر درمیانی چال دوڑانی چاہیے، اس میں خیر ہے۔ بعض لوگ اس قدر تیز ڈرائیونگ کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ، بلکہ وہ اپنی جان پر ظلم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، ردیف سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے سوار کو کہتے ہیں۔
اس حدیث میں ڈرائیونگ کے بعض آداب بیان ہوئے ہیں کہ جب راستہ خالی ہوتو سواری کی سپیڈ تیز کر دینی چاہیے، جبکہ رش والی جگہ پر درمیانی چال دوڑانی چاہیے، اس میں خیر ہے۔ بعض لوگ اس قدر تیز ڈرائیونگ کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ، بلکہ وہ اپنی جان پر ظلم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، ردیف سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے سوار کو کہتے ہیں۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 553]
Sunan Abi Dawud Hadith 1921 in Urdu
كريب بن أبي مسلم القرشي ← أسامة بن زيد الكلبي