🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
(جنابت کی حالت میں قرآن کی تلاوت سے ممانعت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 57
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَابْنِ أَبِي لَيْلَى ، وَشُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَكُنْ يَحْجُبُهُ عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ جُنُبًا" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: قرآن کی تلاوت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی تھی البتہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں ہوتے (تو قرآن تلاوت نہیں کرتے تھے)۔ [مسند الحميدي/حدیث: 57]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابويعلي فى مسنده:287، 348، 406، 524، 579، 623، وصحيح ابن حبان: 800، معرفة السنن للبيهقي: 144/1 برقم: 1221»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥عبد الله بن سلمة المرادي، أبو العالية
Newعبد الله بن سلمة المرادي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
مقبول
👤←👥عمرو بن مرة المرادي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعمرو بن مرة المرادي ← عبد الله بن سلمة المرادي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عمرو بن مرة المرادي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن عبد الرحمن الأنصاري، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن عبد الرحمن الأنصاري ← شعبة بن الحجاج العتكي
ضعيف الحديث
👤←👥مسعر بن كدام العامري، أبو سلمة
Newمسعر بن كدام العامري ← محمد بن عبد الرحمن الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← مسعر بن كدام العامري
ثقة حافظ حجة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 57 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:57
فائدہ:
اس حدیث مبارکہ میں یہ بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت کے علاوہ ہر حالت میں قرآن کریم پڑھتے تھے۔ یہی بات راجح ہے اور اسی میں احتیاط ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر موقع پر احتیاط پر عمل کیا ہے، مثال کے طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے وضو ہونے کی حالت میں سلام کا جواب نہیں دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طہارت کے بعد سلام کا جواب دیا۔ ان دلائل کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ عدم طہارت کی حالت میں تلاوت قرآن کریم سے پر ہیز کرنا بہتر ہے، جبکہ جواز میں کوئی شبہ نہیں ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 57]

Musnad al-Humaydi Hadith 57 in Urdu