علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 594
حدیث نمبر: 594
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَصْلَتَانِ هُمَا يَسِيرٌ وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ، وَلا يُحَافِظُ عَلَيْهِمَا مُسْلِمٌ إِلا دَخَلَ الْجَنَّةَ" قَالُوا: وَمَا هُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" تُسَبِّحُ دُبُرَ كُلِّ صَلاةٍ عَشْرًا، وَتُكَبِّرُ عَشْرًا، وَتَحْمَدُ عَشْرًا، وَتُسَبِّحُ عِنْدَ مَنَامِكَ ثَلاثَةً وَثَلاثِينَ، وَتَحْمَدُ ثَلاثَةً وَثَلاثِينَ، وَتُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلاثِينَ"، ثُمَّ قَالَ سُفْيَانُ: أَحَدُهُنَّ أَرْبَعًا وَثَلاثِينَ، فَذَلِكَ مِائَتَانِ وَخَمْسُونَ بِاللِّسَانِ، وَأَلْفَانِ وَخَمْسِ مِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهَا بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ:" فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي يَوْمِهِ وَلَيْلِهِ أَلْفَيْ سَيِّئَةٍ وَخَمْسِ مِائَةِ سَيِّئَةٍ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ لا يُحَافِظُ عَلَيْهِمَا؟ قَالَ:" يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ، فَيَقُولُ لَهُ: اذْكُرْ كَذَا , اذْكُرْ كَذَا حَتَّى يَقُومَ، وَلَمْ يَقُلْهَا" . قَالَ سُفْيَانُ: هَذَا أَوَّلُ شَيْءٍ سَأَلْنَا عَطَاءً عَنْهُ، وَكَانَ أَيُّوبُ أَمَرَ النَّاسَ حِينَ قَدِمَ عَطَاءٌ الْبَصْرَةَ، أَنْ يَأْتُوهُ فَيَسْأَلُوهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”دو عادتیں ایسی ہیں جو آسان ہیں، لیکن ان پر عمل کرنے والے لوگ تھوڑے ہیں، جو بھی مسلمان ان کو باقاعدگی سے سرانجام دے گا وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ دونوں کون سی ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نماز کے بعد 10 مرتبہ «سبحان الله» پڑھنا، 10 مرتبہ «الله أكبر» پڑھنا، 10 مرتبہ «الحمد لله» پڑھنا۔ اور سوتے وقت 33 مرتبہ «سبحان الله» پڑھنا، 33 مرتبہ «الحمد لله» پڑھنا اور 34 مرتبہ «الله أكبر» پڑھنا۔“ پھر سفیان نے یہ بات بیان کی: ان میں سے کوئی ایک کلمہ 34 مرتبہ ہے، تو یوں یہ روزانہ زبان کے اعتبار سے 250 کلمات ہو جائیں گے اور نامہ اعمال میں 2500 کلمات ہوں گے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے گنتی کر کے یہ بتایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کون شخص ایسا ہے، جو روزانہ 2500 گناہ کرتا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! انہیں باقاعدگی سے پڑھا کیوں نہیں جا سکتا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان کسی شخص کے پاس آتا ہے اور اسے کہتا ہے: فلاں چیز یاد کرو، فلاں چیز یاد کرو، یہاں تک کہ آدمی اٹھ جاتا ہے (یعنی نماز کے بعد اٹھ جاتا ہے) اور ان کلمات کو نہیں پڑھتا ہے۔“ یہ وہ پہلی روایت ہے، جس کے بارے میں ہم نے عطاء سے سوال کیا تھا۔ جب عطاء بصرہ آئے تو ایوب نے لوگوں کو یہ ہدایت کی کہ وہ ان کی خدمت میں جائیں اور ان سے اس روایت کے بارے میں دریافت کریں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 594]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 843، 2012، 2018، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2012، 2013، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1347، 1354، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1272، 1280، 10580، 10586، 10587، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1502، 5065، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3410، 3411، 3486، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 926، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3077، 3419، 3420، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 6609»
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1356
| يعقد التسبيح |
جامع الترمذي |
3411
| يعقد التسبيح |
سنن أبي داود |
1502
| يعقد التسبيح |
مسندالحميدي |
594
| خصلتان هما يسير ومن يعمل بهما قليل، ولا يحافظ عليهما مسلم إلا دخل الجنة |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 594 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:594
فائدہ:
اس حدیث میں مختلف مواقع پر سبحان اللہ، الحمد للہ اور اللہ اکبر کہنے کی فضیلت وارد ہوئی ہے ہمیں ان کا ان کے مقررہ اوقات پر پڑھنے کا التزام کرنا چاہیے، اس حدیث میں نماز کے بعد دس کی گنتی ہے جبکہ دوسری احادیث میں سبحان اللہ (33 بار)، الحمد للہ (33 بار) اور اللہ اکبر (34 بار) کا ذکر ہے، دونوں احادیث ہی صحیح ہیں، یہ بھی معلوم ہوا کہ ترازو حق ہے۔
اس حدیث میں مختلف مواقع پر سبحان اللہ، الحمد للہ اور اللہ اکبر کہنے کی فضیلت وارد ہوئی ہے ہمیں ان کا ان کے مقررہ اوقات پر پڑھنے کا التزام کرنا چاہیے، اس حدیث میں نماز کے بعد دس کی گنتی ہے جبکہ دوسری احادیث میں سبحان اللہ (33 بار)، الحمد للہ (33 بار) اور اللہ اکبر (34 بار) کا ذکر ہے، دونوں احادیث ہی صحیح ہیں، یہ بھی معلوم ہوا کہ ترازو حق ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 594]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1356
تسبیح گننے کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح گنتے ہوئے دیکھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1356]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح گنتے ہوئے دیکھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1356]
1356۔ اردو حاشیہ: مذکورہ احادیث میں معین مقدار میں ذکر کرنے کا حکم ہے، لہٰذا تسبیحات اور دیگر اذکار کو شمار کرنا مشروع عمل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا طریقہ بھی منقول ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں ہاتھ کے ساتھ تسبیحات شمار کرتے دیکھا۔ [سنن أبي داود، الوتر، حدیث: 1502] البتہ جس شخص کے لیے دائیں ہاتھ کی انگلیوں پر تسبیحات شمار کرنا واقعی مشکل اور دشوار ہو تو اس کے لیے اس مقصد کی خاطر بایاں ہاتھ یا کوئی دوسرا ذریعہ استعمال کرنا ان شاء اللہ جائز ہو گا۔ «لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا» [البقرة: 286: 2] واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1356]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1502
کنکریوں سے تسبیح گننے کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح گنتے دیکھا (ابن قدامہ کی روایت میں ہے): ”اپنے دائیں ہاتھ پر۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1502]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح گنتے دیکھا (ابن قدامہ کی روایت میں ہے): ”اپنے دائیں ہاتھ پر۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1502]
1502. اردو حاشیہ: تسبیحات صرف دایئں ہاتھ ہی پر شمار کرنا سنت ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1502]
Musnad al-Humaydi Hadith 594 in Urdu
السائب بن مالك الثقفي ← عبد الله بن عمرو السهمي