مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 619
حدیث نمبر: 619
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ ، غَيْرَ مَرَّةٍ: أَشْهَدُ لَكَ عَلَيْهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرَ يَمْشُونَ أَمَامَ الْجِنَازَةِ" .
سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جنازے کے آگے چلتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 619]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 763، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3045، 3046، 3047، 3048، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1943، 1944، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2082، 2083، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3179، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1007، 1008، 1009، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1482، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6958، 6959، 6960، والدارقطني فى «سننه» برقم: 1809، 1810، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4627»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سالم بن عبد الله العدوي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ حجة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1946
| يمشون أمام الجنازة |
سنن النسائى الصغرى |
1947
| يمشون بين يدي الجنازة |
جامع الترمذي |
1007
| يمشون أمام الجنازة |
جامع الترمذي |
1008
| يمشون أمام الجنازة |
جامع الترمذي |
1009
| يمشون أمام الجنازة |
سنن أبي داود |
3179
| يمشون أمام الجنازة |
سنن ابن ماجه |
1482
| يمشون أمام الجنازة |
بلوغ المرام |
462
| يمشون امام الجنازة |
مسندالحميدي |
619
| رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأبا بكر، وعمر يمشون أمام الجنازة |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 619 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:619
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جنازے کی ہر طرف چلنا درست ہے، آگے پیچھے، دائیں اور بائیں، کیونکہ جنازے میں لوگوں کی کثرت ہوتی ہے اس لیے شریعت نے آسانی رکھی ہے کہ جس طرح بھی چلنا میسر ہو، اسی طرح لوگ چلیں۔
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جنازے کی ہر طرف چلنا درست ہے، آگے پیچھے، دائیں اور بائیں، کیونکہ جنازے میں لوگوں کی کثرت ہوتی ہے اس لیے شریعت نے آسانی رکھی ہے کہ جس طرح بھی چلنا میسر ہو، اسی طرح لوگ چلیں۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 619]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 462
جنازے کے ساتھ چلنے کا بیان
”سیدنا سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کو جنازے کے آگے چلتے دیکھا ہے۔ . . .“ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 462]
”سیدنا سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کو جنازے کے آگے چلتے دیکھا ہے۔ . . .“ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 462]
فائدہ:
جنازے کے ساتھ قبرستان تک جانے کی صورت میں آگے چلنا چاہیے یا پیچھے؟ مختلف روایات سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل دائیں بائیں، آگے اور پیچھے ہر طرح سے ثابت ہے۔
روای حدیث:
[ سالم رحمہ اللہ ] ان کی کنیت ابوعبداللہ یا ابوعمر ہے۔ سلسلہ نسب یوں ہے۔ سالم بن عبداللہ بن عمر بن خطاب۔ سادات تابعین میں سے تھے اور اپنے دور کے معتبر عالم تھے۔ مدینہ طیبہ کے فقہائے سبعہ میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ نہایت ثابت، عالم فاضل تھے۔ اخلاق و سیرت اور عادات میں اپنے والد سے بہت مشابہت رکھتے تھے۔ ذوالقعدہ یا ذوالححجہ کے مہینے میں ۱۰۶ ہجری میں فوت ہوئے۔
جنازے کے ساتھ قبرستان تک جانے کی صورت میں آگے چلنا چاہیے یا پیچھے؟ مختلف روایات سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل دائیں بائیں، آگے اور پیچھے ہر طرح سے ثابت ہے۔
روای حدیث:
[ سالم رحمہ اللہ ] ان کی کنیت ابوعبداللہ یا ابوعمر ہے۔ سلسلہ نسب یوں ہے۔ سالم بن عبداللہ بن عمر بن خطاب۔ سادات تابعین میں سے تھے اور اپنے دور کے معتبر عالم تھے۔ مدینہ طیبہ کے فقہائے سبعہ میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ نہایت ثابت، عالم فاضل تھے۔ اخلاق و سیرت اور عادات میں اپنے والد سے بہت مشابہت رکھتے تھے۔ ذوالقعدہ یا ذوالححجہ کے مہینے میں ۱۰۶ ہجری میں فوت ہوئے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 462]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1947
پیدل چلنے والا جنازہ کے کس طرف رہے؟
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو جنازے کے آگے (پیدل) چلتے دیکھا ہے۔ صرف راوی بکر نے عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ نسائی کہتے ہیں: اس حدیث کا موصول ہونا غلط ہے، اور درست مرسل ہونا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1947]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو جنازے کے آگے (پیدل) چلتے دیکھا ہے۔ صرف راوی بکر نے عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ نسائی کہتے ہیں: اس حدیث کا موصول ہونا غلط ہے، اور درست مرسل ہونا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1947]
1947۔ اردو حاشیہ: احناف جنازے کے آگے چلنا درست نہیں سمجھتے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے: «الجنازۃ متبوعۃ ولا تتبع لیس معھا من تقدمھا» اول تو یہ روایت ہی ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں ابوماجدہ ہے۔ امام ابوداود رحمہ اللہ نے اسے غیر معروف کہا ہے۔ (سنن أبي داود، حدیث: 3184) اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے مجہول کہا ہے۔ (ھدایۃ الرواۃ للألباني، حدیث: 1612) بالفرض اگر یہ صحیح بھی ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جنازے کے ساتھ جائیں تاکہ جنازہ اٹھانے میں ضرورت پڑے تو تعاون کرسکیں۔ جنازے سے پہلے علیحدہ ہی قبرستان نہ چلے جائیں ورنہ جنازے کے ساتھ جانے کا ثواب نہ ملے گا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1947]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3179
جنازے کے آگے آگے چلنا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو جنازے کے آگے چلتے دیکھا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3179]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو جنازے کے آگے چلتے دیکھا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3179]
فوائد ومسائل:
حسب احوال میت کے آگے آگے پیدل چلنا جائز ہے۔
اس میں میت کی کوئی بے ادبی نہیں ہوتی۔
حسب احوال میت کے آگے آگے پیدل چلنا جائز ہے۔
اس میں میت کی کوئی بے ادبی نہیں ہوتی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3179]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1482
جنازہ کے آگے چلنے کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ جنازہ کے آگے چلتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1482]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ جنازہ کے آگے چلتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1482]
اردو حاشہ:
فائده:
(اِتَّبَاعُ الْجَنَائِز)
جنازوں کے پیچھے جانا اس لفظ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنازے کے ساتھ جانے والے سبھی افراد کو پیچھے چلنا چاہیے۔
لیکن اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیچھے جانے کے لفظ سے ساتھ جانا مراد ہے۔
اس لئے ساتھ جانے والے جس طرح میت کی چار پائی کے پیچھے چل سکتے ہیں۔
اسی طرح آگے بھی چل سکتے ہیں لہذا دایئں یا بایئں چلنا تو بالاولیٰ جائز ہے۔
فائده:
(اِتَّبَاعُ الْجَنَائِز)
جنازوں کے پیچھے جانا اس لفظ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنازے کے ساتھ جانے والے سبھی افراد کو پیچھے چلنا چاہیے۔
لیکن اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیچھے جانے کے لفظ سے ساتھ جانا مراد ہے۔
اس لئے ساتھ جانے والے جس طرح میت کی چار پائی کے پیچھے چل سکتے ہیں۔
اسی طرح آگے بھی چل سکتے ہیں لہذا دایئں یا بایئں چلنا تو بالاولیٰ جائز ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1482]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1009
جنازے کے آگے چلنے کا بیان۔
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما جنازے کے آگے آگے چلتے تھے۔ زہری یہ بھی کہتے ہیں کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ ان کے والد عبداللہ بن عمر جنازے کے آگے چلتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1009]
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما جنازے کے آگے آگے چلتے تھے۔ زہری یہ بھی کہتے ہیں کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ ان کے والد عبداللہ بن عمر جنازے کے آگے چلتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1009]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ملاحظہ ہو اگلی حدیث (1010) رہی ابن مسعود کی روایت جو آگے آ رہی ہے «الجنازة متبوعة ولا تتبع وليس منها من تقدمها» تو یہ روایت صحیح نہیں ہے جیسا کہ آگے اس کی تفصیل آ رہی ہے۔
(ملاحظہ ہو: 1011)
وضاحت:
1؎:
ملاحظہ ہو اگلی حدیث (1010) رہی ابن مسعود کی روایت جو آگے آ رہی ہے «الجنازة متبوعة ولا تتبع وليس منها من تقدمها» تو یہ روایت صحیح نہیں ہے جیسا کہ آگے اس کی تفصیل آ رہی ہے۔
(ملاحظہ ہو: 1011)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1009]
Musnad al-Humaydi Hadith 619 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي