پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 640
حدیث نمبر: 640
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، وَأَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ ، وَأَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، إِلا أَنَّهُمْ قَالُوا: وَلا ثَوْبًا مَسَّهُ زَعْفَرَانُ، وَلا وَرْسٌ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”وہ ایسا کپڑا نہیں پہنے گا، جس پر زعفران یا ورس لگا ہوا ہو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 640]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وانظر الحديث السابق»
الرواة الحديث:
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 640 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:640
فائدہ:
اس حدیث میں احرام کے بعض آداب کا بیان ہے، حج یا عمرہ کرنے والے پر ضروری ہے کہ وہ ان چیزوں کا خیال رکھتے ہوئے احرام باندھے۔ احرام کے لباس کی مختصر تفصیل یہ ہے کہ مرد کے لیے احرام کا لباس دو چادریں ہیں، وہ احرام کی حالت میں شلوار، قمیض نہیں پہن سکتا، وہ اپنے سر پر پگڑی یا کپڑا بھی نہیں رکھ سکتا بلکہ سر ننگا ہی رکھے گا، وہ ہر طرح کی جوتی پہن سکتا ہے لیکن اگر فوجی بوٹ یا موزے پہنے ہوں، تو چونکہ فوجی بوٹ اور موزے ٹخنوں کو بھی ڈھانپ لیتے ہیں، اس لیے ان کوٹخنوں کے نیچے تک کاٹ دے۔ بعض لوگوں کا حج اور عمرے کے موقع پر قینچی جوتی کو فرض قرار دینا درست نہیں ہے۔
یاد رہے کہ عورت کے احرام کے لیے مذکورہ چیزوں کی پابندی ضروری نہیں ہے، بلکہ وہ عام حالات کی طرح احرام کی حالت میں بھی سر، ٹخنے اور جسم کے سارے حصوں کو ڈھک کر رکھے گی، ہاں یہ ضرور ہے کہ حالت احرام میں چہرے پر نقاب اور ہاتھوں پر دستانے پہننے سے منع کیا گیا ہے، لیکن یہ حالت صرف اس وقت ہو گی جب مردموجود نہ ہوں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب ہمارا سامنا مردوں سے ہوتا تو ہم اپنے چہروں کو چھپا لیتی تھیں۔ [سنن ابي داود: 1833 ـ سنن ابن ماجه: 4930] اس کو شیخ البانی نے حسن کہا ہے۔
یہاں ایک بات بطور نصیحت عرض ہے کہ حج یا عمرہ کے موقع پر جتنی احتیاط کی جاتی ہے کہ کہیں میرا حج ضائع نہ ہو جائے، اس طرح زندگی کے ہر ہر موڑ پر ہمیں مکمل احتیاط کرنی چاہیے اور ممنوع کاموں سے کلی اجتناب کرنا چاہیے۔
اس حدیث میں احرام کے بعض آداب کا بیان ہے، حج یا عمرہ کرنے والے پر ضروری ہے کہ وہ ان چیزوں کا خیال رکھتے ہوئے احرام باندھے۔ احرام کے لباس کی مختصر تفصیل یہ ہے کہ مرد کے لیے احرام کا لباس دو چادریں ہیں، وہ احرام کی حالت میں شلوار، قمیض نہیں پہن سکتا، وہ اپنے سر پر پگڑی یا کپڑا بھی نہیں رکھ سکتا بلکہ سر ننگا ہی رکھے گا، وہ ہر طرح کی جوتی پہن سکتا ہے لیکن اگر فوجی بوٹ یا موزے پہنے ہوں، تو چونکہ فوجی بوٹ اور موزے ٹخنوں کو بھی ڈھانپ لیتے ہیں، اس لیے ان کوٹخنوں کے نیچے تک کاٹ دے۔ بعض لوگوں کا حج اور عمرے کے موقع پر قینچی جوتی کو فرض قرار دینا درست نہیں ہے۔
یاد رہے کہ عورت کے احرام کے لیے مذکورہ چیزوں کی پابندی ضروری نہیں ہے، بلکہ وہ عام حالات کی طرح احرام کی حالت میں بھی سر، ٹخنے اور جسم کے سارے حصوں کو ڈھک کر رکھے گی، ہاں یہ ضرور ہے کہ حالت احرام میں چہرے پر نقاب اور ہاتھوں پر دستانے پہننے سے منع کیا گیا ہے، لیکن یہ حالت صرف اس وقت ہو گی جب مردموجود نہ ہوں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب ہمارا سامنا مردوں سے ہوتا تو ہم اپنے چہروں کو چھپا لیتی تھیں۔ [سنن ابي داود: 1833 ـ سنن ابن ماجه: 4930] اس کو شیخ البانی نے حسن کہا ہے۔
یہاں ایک بات بطور نصیحت عرض ہے کہ حج یا عمرہ کے موقع پر جتنی احتیاط کی جاتی ہے کہ کہیں میرا حج ضائع نہ ہو جائے، اس طرح زندگی کے ہر ہر موڑ پر ہمیں مکمل احتیاط کرنی چاہیے اور ممنوع کاموں سے کلی اجتناب کرنا چاہیے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 640]
Musnad al-Humaydi Hadith 640 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي