🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 676
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 676
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنى قَالَ: " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مِنَ الْوَحْدَةِ مَا أَعْلَمُ، مَا سَرَى رَاكِبٌ بِلَيْلٍ وَحْدَهُ أَبَدًا" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اکیلے رہنے کے بارے میں جو کچھ مجھے پتا ہے اگر لوگوں کو پتا چل جائے، تو کوئی بھی شخص اکیلا رات کے وقت (سفر نہ کرے) [مسند الحميدي/حدیث: 676]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2998، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2569، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2704، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2507، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1673، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2721، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3768، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10457، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4839»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن زيد القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن زيد القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥عاصم بن محمد العمري
Newعاصم بن محمد العمري ← محمد بن زيد القرشي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عاصم بن محمد العمري
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2998
لو يعلم الناس ما في الوحدة ما أعلم ما سار راكب بليل وحده
جامع الترمذي
1673
لو أن الناس يعلمون ما أعلم من الوحدة ما سرى راكب بليل
سنن ابن ماجه
3768
لو يعلم أحدكم ما في الوحدة ما سار أحد بليل وحده
مسندالحميدي
676
لو يعلم الناس من الوحدة ما أعلم، ما سرى راكب بليل وحده أبدا
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 676 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:676
فائدہ:
رات کو اکیلا سفر کرنا مکروہ ہے جیسا کہ امام تر مذی رحمہ اللہ نے اس حدیث پر باب قائم کیا ہے۔ لیکن بامر مجبوری یا جنگی حالات میں اکیلے سفر کرنا درست ہے۔ [صحيح البخاري: 2997]
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 676]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3768
تنہائی کی کراہت کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کسی کو تنہائی کی برائی اور خرابی معلوم ہو جاتی، تو وہ کبھی رات میں تنہا نہ چلتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3768]
اردو حاشہ:
فوائد و  مسائل:
 
(1)
لمبے سفر میں بسا اوقت ایسے حالات پیش آسکتے ہیں کہ ساتھی سے تعاون اور مدد حاصل کرنے کی ضرورت پڑے، اس لیے سفر میں نیک ہم سفر کا ساتھ ہونا چاہیے۔

(2)
رات کو زیادہ خطرات پیش آ سکتے ہیں، اس لیے رات کو اکیلے سفر کرنے سے اجتناب ٖضروری ہے۔

(3)
۔
اگر انتہائی مجبوری ہو تو اکیلے سفر کیا جا سکتا ہے جیسے حضرت ابوذر ؓ نے ہجرت کا سفر اکیلے طے کیا تھا۔

(4)
آبادی میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا عرف عام میں سفر نہیں کہلاتا اس میں تنہائی جائز ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3768]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1673
تنہا سفر کرنے کی کراہت کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ تنہائی کا وہ نقصان جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو کوئی سوار رات میں تنہا نہ چلے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1673]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اگر حالات ایسے ہیں کہ راستے غیر مامون ہیں،
جان ومال کا خطرہ ہے تو ایسی صورت میں بلاضرورت تنہا سفر کرنا ممنوع ہے،
اور اگر کوئی مجبوری درپیش ہے تو کوئی حرج نہیں،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کو بوقت ضرورت تنہا سفر پر بھیجا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1673]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2998
2998. حضرت ابن عمر ؓسے روایت ہے۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: تنہا سفر کرنے کا جو نقصان، مجھے معلوم ہے وہ اگر لوگوں کو معلوم ہوجائے تو کوئی سوار بھی رات کے وقت اکیلا سفر نہ کرے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2998]
حدیث حاشیہ:
اکثر علماء نے اکیلے سفر کرنے کو مکروہ رکھا ہے۔
کیونکہ حدیث میں ہے کہ اکیلا مسافر شیطان ہے‘ اور دو دو شیطان ہیں اور تین جماعت ہیں۔
امام بخاریؒ کی غرض اس باب کے لانے سے یہ ہے کہ ضرورت کے وقت جیسے جاسوسی وغیرہ کے لئے اکیلے سفر کرنا درست ہے۔
بعضوں نے کہا اگر راہ میں کچھ ڈر نہ ہو تو اکیلے سفر کرنے میں کوئی قباحت نہیں اور ممانعت کی حدیث اس پر محمول ہے جب ڈر ہو۔
(وحیدی)
آج کل ریل موٹر ہوائی جہاز کے سفر بھی اگر بصورت جماعت ہی کئے جائیں تو اس کے بہت سے فوائد ہیں جو تنہائی کی حالت میں نہیں ہیں۔
سفر میں اکیلے ہونا فی الواقع بے حد تکلیف کا موجب ہے خواہ وہ سفر ریل‘ موٹر‘ ہوائی جہاز کا بھی کیوں نہ ہو۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2998]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2998
2998. حضرت ابن عمر ؓسے روایت ہے۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: تنہا سفر کرنے کا جو نقصان، مجھے معلوم ہے وہ اگر لوگوں کو معلوم ہوجائے تو کوئی سوار بھی رات کے وقت اکیلا سفر نہ کرے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2998]
حدیث حاشیہ:

امام بخاری ؒنے عنوان کو مبہم رکھا ہے۔
اس کے متعلق جواز یا عدم جواز کی صراحت نہیں کی۔
دراصل رات کے وقت سفر کرنے کی دو حالتیں ممکن ہیں۔
ایک صورت تو امن و سلامتی کی ہے۔
اس سفر میں غالب گمان یہ ہوتا ہے کہ دشمن کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچاسکے گا۔
تو اس حالت میں تنہا سفر کرنا جائز ہے جیسا کہ حضرت زبیر ؓ کی حدیث میں ہے۔
دوسری حالت خوف و ہراس کی ہے۔
اس صورت میں تنہا سفر کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔

شارح بخاری ابن منیر ؒ فرماتے ہیں جنگ کی مصلحت کے لیے تنہا سفر کرنا جائز ہے جیسا کہ دشمن کے حالات معلوم کرنا اور جاسوسی کرنا اور جنگی انتظامات کے لیے جانا ایسے حالات میں رات کے وقت تنہا سفر کرنا جائز ہے ان کے علاوہ تنہا سفر کرنا خرابی سے خالی نہیں۔
(فتح الباري: 167/6)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2998]

Musnad al-Humaydi Hadith 676 in Urdu