🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 788
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 788
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ، كَمَثَلِ الْعَطَّارِ، إِنْ لَمْ يَحْذِكَ مِنْ عِطْرِهِ عَلِقَ بِكَ مِنْ رِيحِهِ، وَمَثَلُ الْجَلِيسِ السُّوءِ، كَمَثَلِ الْقَيْنِ، إِنْ لَمْ يَحْرِقَكَ بِشَرَرِهِ، عَلِقَ بِكَ مِنَ رِيحِهِ" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اچھے ہم نشین کی مثال عطار کی مانند ہے اگر وہ تمہیں اپنا عطر نہیں بھی دے گا، تو اس کی خوشبو تم تک پہنچے گی۔ اور برے ہم نشین کی مثال لوہار کی مانند ہے اگر وہ اپنے شراروں کے ذریعے تمہیں نہیں جلائے گا، تو بھی اس کی بدبو تم تک پہنچے گی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 788]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2101، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2628، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 231، 232، 561، 579، 3359، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 5041، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2352، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4830، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2865، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7941، 11245، 11628، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19821 برقم: 19933»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥أبو بردة بن أبي موسى الأشعري، أبو بردة
Newأبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥بريد بن عبد الله الأشعري، أبو بردة
Newبريد بن عبد الله الأشعري ← أبو بردة بن أبي موسى الأشعري
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← بريد بن عبد الله الأشعري
ثقة حافظ حجة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 788 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:788
فائدہ:
اس حدیث میں اچھے اور برے دوست کی مثال بیان کی گئی ہے۔ اچھا دوست خوشبو کی مثل ہے جس سے فائدہ ہی ملے گا شر یا نقصان کی امید نہیں ہوگی، ایسا دوست دنیا و آخرت میں نیک نامی کا سبب ہوگا اور آخر کار جنت میں داخلے کا سبب بن جائے گا۔ برا دوست عزت، مال اور ایمان کے لیے شر ہی ثابت ہوگا آخر کار جہنم میں، اپنے ساتھ لے جائے گا۔ برے دوست کی صحبت سے دنیا و آخرت دونوں ہی تباہ ہوں گی۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لوگوں کو عام فہم مثالوں سے سمجھانا چاہیے۔ نیز ثابت ہوا کہ عطر فروشی کا پیشہ خیر کا کام ہے۔ کوئی اس سے لوہار کے پیشے کو برا تصور نہ کرے۔ کتنے عطر فروش برے لوگ ہیں اور کتنے لوہے کا کام کرنے والے اچھے لوگ ہیں۔ یہ فقط ایک مثلال بیان کی گئی ہے۔ پیشے کی حلت یا حرمت مراد نہیں ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 788]

Musnad al-Humaydi Hadith 788 in Urdu