مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 840
حدیث نمبر: 840
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ حُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ," أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالنَّاسِ الصُّبْحَ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقَرَأَ سُورَةَ الْمُؤْمِنِينَ، فَلَمَّا بَلَغَ ذِكْرَ عِيسَى وَأُمِّهِ أَخَذَتْهُ سَعْلَةٌ، أَوْ شَرْقَةٌ فَرَكَعَ" .
سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ مؤمنون کی تلاوت کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کے تذکرے پر پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانسی آ گئی۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں بلغم آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 840]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف فيه عنعنة ابن جريج، ولكن الحديث صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 455، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 546، 1014، 1015، 1649، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1815، 2189، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 775، 1006، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 854، 1081، وأبو داود فى «سننه» برقم: 648، 649، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 820، 1431، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2500، 4083، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 15629 برقم: 15631»
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
777
| وضع نعليه عن يساره |
سنن النسائى الصغرى |
1008
| خلع نعليه فوضعهما عن يساره افتتح بسورة المؤمنين فلما جاء ذكر موسى أو عيسى أخذته سعلة فركع |
سنن أبي داود |
648
| وضع نعليه عن يساره |
سنن ابن ماجه |
1431
| جعل نعليه عن يساره |
مسندالحميدي |
840
| أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى بالناس الصبح يوم الفتح، فقرأ سورة المؤمنين، فلما بلغ ذكر عيسى وأمه أخذته سعلة، أو شرقة فركع |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 840 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:840
فائدہ:
اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں دوران قرٱت کوئی عارضہ پیش آ جائے تو سورۃ مکمل پڑھے بغیر رکوع کیا جا سکتا ہے۔
اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں دوران قرٱت کوئی عارضہ پیش آ جائے تو سورۃ مکمل پڑھے بغیر رکوع کیا جا سکتا ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 841]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 777
جب امام لوگوں کو نماز پڑھائے تو اپنے جوتے کہاں رکھے؟
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح (مکہ) کے دن نماز پڑھی، تو آپ نے اپنے جوتوں کو اپنے بائیں جانب رکھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 777]
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح (مکہ) کے دن نماز پڑھی، تو آپ نے اپنے جوتوں کو اپنے بائیں جانب رکھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 777]
777 ۔ اردو حاشیہ: چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امام تھے اور آپ کے بائیں جانب کوئی نہ تھا، لہٰذا آپ نے اپنے جوتے بائیں طرف رکھے۔ اگر بائیں طرف کوئی آدمی کھڑا ہو تو بائیں طرف جوتے نہیں رکھنے چاہئیں۔ حدیث میں اس کی صراحت ہے۔ اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جوتے پہن کر نماز پڑھنا ضروری نہیں، صرف جائز ہے، البتہ آپ کے دور میں جب یہودی بھی مدینہ منورہ میں رہتے تھے، جوتوں میں نماز پڑھنا مستحب تھا کیونکہ اس سے امتیاز ہوتا تھا۔ آج کل اسلامی ممالک میں یہودی نہیں ہیں، لہٰذا جوتے میں نماز مستحب نہیں بلکہ حسب ضرورت صرف جائز ہے۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 777]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1008
سورت کا کچھ حصہ پڑھنے کا بیان۔
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے کعبہ کے سامنے نماز پڑھی، اپنے جوتے اتار کر انہیں اپنی بائیں طرف رکھا، اور سورۃ مومنون سے قرأت شروع کی، جب موسیٰ یا عیسیٰ علیہما السلام کا ذکر آیا ۱؎ تو آپ کو کھانسی آ گئی، تو آپ رکوع میں چلے گئے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1008]
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے کعبہ کے سامنے نماز پڑھی، اپنے جوتے اتار کر انہیں اپنی بائیں طرف رکھا، اور سورۃ مومنون سے قرأت شروع کی، جب موسیٰ یا عیسیٰ علیہما السلام کا ذکر آیا ۱؎ تو آپ کو کھانسی آ گئی، تو آپ رکوع میں چلے گئے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1008]
1008۔ اردو حاشیہ:
➊ اگر سورت کو مکمل پڑھنا ضروری ہوتا تو آپ کھانسی ختم ہونے کا انتظار فرماتے، پھر سورت کو مکمل فرماتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کھانسی آنے پر رکوع میں چلے جانا جواز کی دلیل ہے۔ ہو سکتا ہے اسے کوئی عذر قرار دے، مگر حدیث: 992 میں سورۂ اعراف کو آپ نے بلاعذر دو رکعتوں میں تقسیم کیا۔ یہ حدیث اس مسئلے میں صریح دلیل ہے۔
➋ جب نماز میں کوئی عارضہ لاحق ہو جائے تو نماز کو مختصر کر لینا چاہیے۔
➊ اگر سورت کو مکمل پڑھنا ضروری ہوتا تو آپ کھانسی ختم ہونے کا انتظار فرماتے، پھر سورت کو مکمل فرماتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کھانسی آنے پر رکوع میں چلے جانا جواز کی دلیل ہے۔ ہو سکتا ہے اسے کوئی عذر قرار دے، مگر حدیث: 992 میں سورۂ اعراف کو آپ نے بلاعذر دو رکعتوں میں تقسیم کیا۔ یہ حدیث اس مسئلے میں صریح دلیل ہے۔
➋ جب نماز میں کوئی عارضہ لاحق ہو جائے تو نماز کو مختصر کر لینا چاہیے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1008]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1431
نماز کے وقت جوتا نکال کر کہاں رکھا جائے؟
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو آپ نے اپنے جوتے بائیں طرف رکھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1431]
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو آپ نے اپنے جوتے بائیں طرف رکھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1431]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جوتے پہن کر نماز پڑھنا بھی جائز ہے۔
اور جوتے اُتار کر پڑھنا بھی۔
دیکھئے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 1038)
(2)
جوتے اُتار کرنماز پڑھیں۔
تو انھیں بایئں طرف رکھیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
جوتے پہن کر نماز پڑھنا بھی جائز ہے۔
اور جوتے اُتار کر پڑھنا بھی۔
دیکھئے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 1038)
(2)
جوتے اُتار کرنماز پڑھیں۔
تو انھیں بایئں طرف رکھیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1431]
Musnad al-Humaydi Hadith 840 in Urdu
عبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عبد الله بن السائب المخزومي