Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
(خانہ کعبہ کے پاس اللہ کی سماعت پر بحث کا بیان)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 87
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، حَدَّثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: " اجْتَمَعَ عِنْدَ الْبَيْتِ ثَلاثَةُ نَفَرٍ: قَرَشِيَّانِ، وَثَقَفِيٌّ، أَوْ ثَقَفِيَّانِ وَقُرَشِيٌّ قَلِيلٌ فِقْهُ قَلْبِهِمْ، كَثِيرٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ: أَتَرَوْنَ اللَّهَ يَسْمَعُ مَا نَقُولُ؟ فَقَالَ الآخَرُ: يَسْمَعُ إِنْ جَهَرْنَا، وَلا يَسْمَعُ إِنْ أَخْفَيْنَا، فَقَالَ الآخَرُ: إِنْ كَانَ يَسْمَعُ إِذَا جَهَرْنَا، فَإِنَّهُ يَسْمَعُ إِذَا أَخْفَيْنَا، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلا أَبْصَارُكُمْ سورة فصلت آية 22" , وَكَانَ سُفْيَانُ أَوَّلا يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ. حَدَّثنا مَنْصُورٌ، أَوِ ابْنُ نَجِيحٍ، أَوْ حُمَيْدٌ الأَعْرَجُ أَحَدُهُمْ أَوِ اثْنَانِ مِنْهُمْ , ثُمَّ ثَبَتَ عَلَى مَنْصُورٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: خانہ کعبہ کے پاس تین آدمی اکٹھے ہوئے اس میں سے دو قریشی تھے اور ایک ثقیف قبیلے سے تھا یا دو ثقیف قبیلے کے تھے اور ایک قریشی تھا ان کے دماغ میں عقل کم تھی اور ان کے پیٹ پر چربی زیادہ تھی۔ ان میں سے ایک نے کہا: اللہ تعالیٰ کے بارے میں تم لوگوں کی کیا رائے ہے؟ ہم جو کہتے ہیں، وہ اسے سن لیتا ہے؟ تو دوسرے نے کہا: اگر ہم بلند آواز میں کہیں، تو پھر وہ سن لے گا اگر ہم پست آواز میں بات کریں، تو پھر وہ نہیں سنے گا، تو تیسرے نے کہا: اگر وہ ہماری بلند آواز کو سن لیتا ہے، تو وہ ہماری پست آواز کو بھی سن لے گا۔ راوی کہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: اور تم جو کچھ چھپاتے ہو اس کے بارے میں تمہاری سماعت تمہاری بصارت تمہارے خلاف گواہی دیں گے۔ سفیان نامی راوی اس روایت میں پہلے یہ کہا کرتے تھے کہ اسے منصور یا ابن ابونجیح یا حمید نے نقل کیا ہے یا ان میں سے کسی ایک نے یا ان میں سے کسی دو نے نقل کیا ہے، لیکن پھر وہ اعتماد کے ساتھ کہنے لگے کہ یہ روایت منصور سے منقول ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 87]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 4816، 4817، 7521، ومسلم: 2775، وصحيح ابن حبان: 390، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 5204، 5245، 5246»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن سخبرة الأزدي، أبو معمر
Newعبد الله بن سخبرة الأزدي ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن سخبرة الأزدي
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥عبد الله بن أبي نجيح الثقفي، أبو يسار
Newعبد الله بن أبي نجيح الثقفي ← مجاهد بن جبر القرشي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عبد الله بن أبي نجيح الثقفي
ثقة حافظ حجة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 87 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:87
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی بات سنتا ہے، وہ خفیہ ہو یا اونچی آواز میں۔ بلکہ اللہ تبارک وتعالیٰ تو دلوں کے بھید بھی جانتا ہے اور کل کائنات کی نقل وحرکت سے بخوبی واقف ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: «ان الله عليم بذات الصدور» ۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ روز قیامت انسان کا جسم خود گواہی دے گا، سبحان اللہ۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 88]