🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 871
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 871
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا خَرَجَ إِلَى حُنَيْنٍ مَرَّ بِشَجَرَةٍ يُقَالُ لَهَا: ذَاتُ أَنْوَاطٍ، يُعَلِّقُ الْمُشْرِكُونَ عَلَيْهَا أَسْلِحَتَهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لَهُمْ ذَاتُ أَنْوَاطٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ، هَذَا كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ سورة الأعراف آية 138، لَتَرْكَبُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ" .
سیدنا ابوواقعد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حنین کی طرف نکلے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک درخت کے پاس سے ہوا جس کا نام ذات انواط تھا۔ مشرکین اپنا اسلحہ اس پر لٹکایا کرتے تھے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے لیے بھی کوئی ذات انواط مقرر کر دیں جس طرح ان لوگوں کا ذات انواط تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اکبر! یہ تو اسی طرح ہے، جس طرح بنی اسرائیل نے کہا تھا: تم ہمارے لیے بھی اسی طرح کا معبود بنا دو جس طرح ان کا معبود ہے۔ (پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) تم لوگ اپنے پہلے کے لوگوں کے طریقوں پر ضرور عمل کرو گے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 871]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6702، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 11121، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2180، وأحمد فى «مسنده» برقم: 22315، 22318، 22320، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 1443، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1441»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حارث بن عوف الليثي، أبو واقدصحابي
👤←👥سنان بن أبي سنان الديلي
Newسنان بن أبي سنان الديلي ← حارث بن عوف الليثي
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سنان بن أبي سنان الديلي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2180
سبحان الله هذا كما قال قوم موسى اجعل لنا إلها كما لهم آلهة
مسندالحميدي
871
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 871 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:871
فائدہ:
ذات انواط نامی درخت جھاؤ کی قسم سے تھا، مشرکین بطور حاجت برآری اس درخت پر اپنے ہتھیار لٹکاتے اور اس درخت کے اردگرد طواف کیا کرتے تھے۔ نیز یہ معلوم ہوا کہ مسلمان نافرمانی کے کاموں میں سابقہ امتوں کے نقش قدم پر چلیں گے، افسوس کہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ثابت ہوا اور آج کا مسلمان یہود و نصاریٰ اور مشرکین کی عادات واطوار کو اپناتے نظر آتے ہیں۔ حالانکہ یہی وہ کفار ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے دشمن ہیں، وہ مسلمانوں کے خیر خواہ کیسے بن سکتے ہیں۔ اب تو سوشل میڈ یا، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے یہود و نصاریٰ مسلمان گھروں میں اپنے پنجے گاڑ چکے ہیں۔ ایک چینل دینی ہے اور دوسرا یہود و نصاری کا ہے۔ مسلمان دینی چینل لگانے کی بجائے یہود و نصاری کو ترجیح دیتا ہے!!
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 870]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2180
امت محمدیہ گزری امتوں کے نقش قدم پر چلے گی۔
ابوواقد لیثی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین کے لیے نکلے تو آپ کا گزر مشرکین کے ایک درخت کے پاس سے ہوا جسے ذات انواط کہا جاتا تھا، اس درخت پر مشرکین اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے ۱؎، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط مقرر فرما دیجئیے جیسا کہ مشرکین کا ایک ذات انواط ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! یہ تو وہی بات ہے جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہی تھی کہ ہمارے لیے بھی معبود بنا دیجئیے جیسا ان مشرکوں کے لیے ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم گزشتہ امت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2180]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ذات انواط نامی درخت جھاؤ کی قسم سے تھا،
مشرکین بطور حاجت برآری اس پر اپنا ہتھیار لٹکاتے اور اس درخت کے ارد گرد اعتکاف کرتے تھے۔

2؎:
مفہوم یہ ہے کہ تم خلاف شرع نافرمانی کے کاموں میں اپنے سے پہلے کی امتوں کے نقش قدم پر چلوگے،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق آج مسلمانوں کا حال حقیقت میں ایسا ہی ہے،
چنانچہ یہود و نصاری اور مشرکین کی کون سی عادات و اطوار ہیں جنہیں مسلمانوں نے نہ اپنایا ہو۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2180]

Musnad al-Humaydi Hadith 871 in Urdu