🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 917
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 917
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي دُكَيْنُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُزَنِيُّ ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْبَعِ مِائَةِ رَاكِبٍ نَسْأَلُهُ الطَّعَامَ، فَقَالَ:" يَا عُمْرُ اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُمْ، وَأَعْطِهِمْ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِنْدِي إِلا آصِعٍ مِنْ تَمْرٍ مَا تَقِيظُ عِيَالِي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: اسْمَعْ وَأَطِعْ، فَقَالَ عُمْرُ: سَمْعٌ وَطَاعَةٌ، قَالَ: فَانْطَلَقَ عُمَرُ حَتَّى أَتَى عِلْيَةً لَهُ، فَأَخْرَجَ مِفْتَاحًا مِنْ حُجُزَتِهِ فَفَتَحَهَا، فَقَالَ لِلْقَوْمِ: ادْخُلُوا، فَدَخَلُوا، وَكُنْتُ آخِرَ الْقَوْمِ دُخُولا، فَأَخَذْتُ وَأَخَذْتُ، ثُمَّ الْتَفَتُّ فَإِذَا مِثْلُ الْفَصِيلِ مِنَ التَّمْرِ" .
سیدنا دکین بن سعید مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم 400 سواروں کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کھانے کے لیے مانگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! جاؤ انہیں کھانا کھلاؤ اور انہیں عطیات دو۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے پاس تو کھجوروں کے چند صاع ہیں۔ جو صرف میرے گھر والوں کے اس موسم کی خوراک کے لیے کفایت کریں گے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے: تم اطاعت و فرمانبرداری کرو تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں اطاعت و فرمانبرداری کرتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گئے اور اپنے (اناج کے کمرے کے پاس آئے) انہوں نے اپنے تہبند باندھے کی جگہ سے چابی نکالی اس کے دروازے کو کھولا اور حاضرین سے کہا: تم لوگ اندر آؤ۔ میں اندر داخل ہونے والا سب سے آخری فرد تھا۔ میں نے بھی وہاں سے خوراک حاصل کی، میں نے توجہ کی، تو وہاں اتنی کھجوریں تھیں، جتنا کہ اونٹنی کا وہ بچہ ہوتا ہے، جس سے دودھ چھڑایا گیا ہو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 917]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6528، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5238، وأحمد فى «مسنده» برقم: 17850، 17851، 17852، 17853، 17854، والطبراني فى "الكبير" برقم: 4207، 4208، 4209، 4210»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥دكين بن سعد الخثعميصحابي
👤←👥قيس بن أبي حازم البجلي، أبو عبد الله
Newقيس بن أبي حازم البجلي ← دكين بن سعد الخثعمي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← قيس بن أبي حازم البجلي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
5238
اذهب فأعطهم فارتقى بنا إلى علية فأخذ المفتاح من حجرته ففتح
مسندالحميدي
917
يا عمر اذهب فأطعمهم، وأعطهم
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 917 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:917
فائدہ:
اس حدیث میں ذکر ہے کہ ضرورت مندوں کی ضرورت کا خیال رکھنا چاہیے، جس چیز کی کسی کو ضرورت ہو، وہی چیز صدقہ و خیرات کر دینی چاہیے محتاج کی حمایت میں اپیل اور تائید کر دینی چاہیے، اگر کسی کو پتہ بھی ہو کہ فلاں شخص ضرورت مند ہے، پھر وہ شخص لوگوں کو اس کے ساتھ تعاون پر رغبت بھی نہیں دلاتا، وہ گناہ کا کام کر رہا ہے، اور دین کو جھٹلا رہا ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ ‎ ➊ ‏ فَذَٰلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ ‎ ➋ ‏ وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ ➌ ﴾ ‎ (الماعون: 1 تا 3)
کیا تو نے اسے بھی دیکھا ہے جو روز جزا کو جھٹلاتا ہے، یہی وہ شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے، اور مسکین کو کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔
اس حدیث سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سخاوت بھی ثابت ہوتی ہے، اور یہ بھی ثابت ہوا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں تالے تھے، اور وہ اپنی قیمتی چیزوں کو تالے میں رکھتے تھے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 916]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5238
بالاخانے بنانے کا بیان۔
دکین بن سعید مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے غلہ مانگا تو آپ نے فرمایا: عمر! جاؤ اور انہیں دے دو، تو وہ ہمیں ایک بالاخانے پر لے کر چڑھے، پھر اپنے کمرے سے چابی لی اور اسے کھولا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5238]
فوائد ومسائل:
فی الواقع ضرورت ہو تو مکان کے اوپر مکان بنانا جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5238]