🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 952
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 952
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَقْرَمَ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقَاعِ مِنْ نَمِرَةَ يُصَلِّي، فَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبِطَيْهِ إِذَا سَجَدَ" .
عبید اللہ بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نمرہ میں کھلی جگہ پر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 952]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 831، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1107، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 699، والترمذي فى «جامعه» برقم: 274، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 881، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2752، وأحمد فى «مسنده» برقم: 16663، 16664، 16665، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 2923، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 2657، والطبراني فى «الكبير» ‏‏‏‏ برقم: 15051»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن أقرم الخزاعي، أبو سعيد، أبو معبدصحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الخزاعي، أبو سعيد
Newعبيد الله بن عبد الله الخزاعي ← عبد الله بن أقرم الخزاعي
ثقة
👤←👥داود بن قيس القرشي، أبو سليمان
Newداود بن قيس القرشي ← عبيد الله بن عبد الله الخزاعي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← داود بن قيس القرشي
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1109
أرى عفرة إبطيه إذا سجد
جامع الترمذي
274
أنظر إلى عفرتي إبطيه إذا سجد وأري بياضه
سنن ابن ماجه
881
عفرتي إبطي رسول الله كلما سجد
مسندالحميدي
952
رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بالقاع من نمرة يصلي، فرأيت بياض إبطيه إذا سجد
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 952 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:952
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ سجدہ میں بازؤوں کو کھول کر رکھنا چاہیے، نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ نماز میں اگر بغلیں ننگی بھی ہو جائیں تو نماز نہیں ٹوٹتی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلیں مبارک سفید تھیں۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 951]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث881
نماز میں سجدے کا بیان۔
عبداللہ بن اقرم خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک بار اپنے والد کے ساتھ نمرہ کے میدان میں تھا کہ ہمارے پاس سے کچھ سوار گزرے، انہوں نے راستے کی ایک جانب اپنی سواریوں کو بٹھایا، مجھ سے میرے والد نے کہا: تم اپنے جانوروں میں رہو تاکہ میں ان لوگوں کے پاس جا کر ان سے پوچھوں (کہ کون لوگ ہیں)، وہ کہتے ہیں: میرے والد گئے، اور میں بھی قریب پہنچا تو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں، میں نماز میں حاضر ہوا اور ان لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی، جب جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جاتے میں آپ کی دونوں بغلوں کی سفیدی کو دیکھتا تھا ۲؎۔ ابن ماجہ ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 881]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سفر کے دوران میں رستے میں ٹھرنا پڑے تو سڑک پر ٹھرنے کی بجائے نیچے اتر کر ایک طرف ٹھرنا چاہیے۔

(2)
صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین کی نظر میں نماز باجماعت کی اہمیت اس قدر زیادہ تھی کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بکریوں کو اپنی جگہ چھوڑ کرنماز باجماعت میں شرکت کی۔

(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کرتے وقت بازؤں کو پہلوئوں سے ملا کر نہیں رکھا۔
اس لئے صحابہ رضوان للہ عنہم اجمعین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلیں اچھی طرح نظر آ گیئں۔

(2)
بغلوں کی سفیدی کےلئے (عفرۃ)
کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
اس سے مراد ایسا سفید رنگ ہے۔
جس میں سیاہی کی ہلکی سی آمیزش ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جلد مبارک کا رنگ بالکل سفید تھا۔
اور بالوں کے اگتے ہوئے سرے سیاہ رنگ کے تھے۔
ان دونوں کے ملنے سے بغلوں کا رنگ سیاہی مائل سفید نظرآیا۔

(5)
بغلوں کے بال اکھاڑنا مسنون ہے۔
جب بال اتنے چھوٹے ہوں کہ اکھاڑنا مشکل ہو اسوقت جس کے سفید رنگ سے مل کر مذکورہ بالا کیفیت پیدا ہوسکتی ہے۔
اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ بال بہت بڑھے ہوئے نہیں تھے۔
ورنہ عفرہ (خاکستری رنگ)
کے بجائےسواد (سیاہی)
کا لفظ بولا جاتا۔
صفائی کا تقاضا یہ ہے کہ جسم کے غیر ضروری بال مناسب حد سے زیادہ نہ بڑھنے دیئے جایئں بروقت صفائی کرلی جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 881]

Musnad al-Humaydi Hadith 952 in Urdu