الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب ما يجب فيه تطليقة واحدة من التمليك
جس تملیک سے ایک طلاق پڑتی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 1143
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَأَتَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتِيقٍ وَعَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ، فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ:" مَا شَأْنُكَ؟" فَقَالَ: مَلَّكْتُ امْرَأَتِي أَمْرَهَا، فَفَارَقَتْنِي، فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ:" مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟" قَالَ: الْقَدَرُ، فَقَالَ زَيْدٌ : " ارْتَجِعْهَا إِنْ شِئْتَ، فَإِنَّمَا هِيَ وَاحِدَةٌ وَأَنْتَ أَمْلَكُ بِهَا"
سیدنا خارجہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے باپ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے، اتنے میں محمد بن ابی عتیق روتے ہوئے آئے۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیوں؟ انہوں نے کہا: میں نے اپنی عورت کو طلاق کا اختیار دیا تھا، اس نے مجھے چھوڑ دیا۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے کیوں اختیار دیا؟ انہوں نے کہا: تقدیر میں یوں ہی تھا۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تو چاہے تو رجعت کر لے، کیونکہ ایک طلاق پڑی ہے، ابھی تو اس کا مالک ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1143]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15039، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4445، والشافعي فى «الاُم» برقم: 244/7-254، والشافعي فى «المسنده» برقم: 80/2، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 12»
الرواة الحديث:
خارجة بن زيد الأنصاري ← زيد بن ثابت الأنصاري