🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب العينة وما يشبهها وبيع الطعام قبل أن يستوفي
بیع عینہ کا بیان اور کھانے کی چیزوں کو قبل قبضہ کے بیچنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1348
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَمِيلَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُؤَذِّنَ، يَقُولُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ: إِنِّي رَجُلٌ أَبْتَاعُ مِنَ الْأَرْزَاقِ الَّتِي تُعْطَى النَّاسُ بِالْجَارِ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أُرِيدُ أَنْ أَبِيعَ الطَّعَامَ الْمَضْمُونَ عَلَيَّ إِلَى أَجَلٍ. فَقَالَ لَهُ سَعِيدٌ : " أَتُرِيدُ أَنْ تُوَفِّيَهُمْ مِنْ تِلْكَ الْأَرْزَاقِ الَّتِي ابْتَعْتَ؟" فَقَالَ: نَعَمْ. فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ .
حضرت جمیل بن عبدالرحمٰن نے سعید بن مسیّب سے کہا: میں ان غلوں کو جو سرکار کی طرف سے لوگوں کو مقرر ہیں جار میں خرید کرتا ہوں، پھر میں چاہتا ہوں کہ غلہ کو میعاد لگا کر لوگوں کے ہاتھ بیچوں۔ سعید نے کہا: تو چاہتا ہے ان لوگوں کو اسی غلہ میں سے ادا کرے جو تو نے خریدا ہے۔ جمیل نے کہا: ہاں۔ سعید بن مسیّب نے اس سے منع کیا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1348]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 46»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمدأحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← سعيد بن المسيب القرشي
ثقة ثبت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1348B1
قَالَ مَالِك: الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ أَنَّهُ مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا بُرًّا أَوْ شَعِيرًا أَوْ سُلْتًا أَوْ ذُرَةً أَوْ دُخْنًا أَوْ شَيْئًا مِنَ الْحُبُوبِ الْقِطْنِيَّةِ، أَوْ شَيْئًا مِمَّا يُشْبِهُ الْقِطْنِيَّةَ مِمَّا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ، أَوْ شَيْئًا مِنَ الْأُدُمِ كُلِّهَا الزَّيْتِ وَالسَّمْنِ وَالْعَسَلِ وَالْخَلِّ وَالْجُبْنِ وَالشِّبرِقِ وَاللَّبَنِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنَ الْأُدْمِ، فَإِنَّ الْمُبْتَاعَ لَا يَبِيعُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ حَتَّى يَقْبِضَهُ وَيَسْتَوْفِيَهُ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے، جو شخص اناج خرید کرے جیسے گیہوں، جو، جوار، باجرہ اور دالیں وغیرہ جن میں زکوة واجب ہوتی ہے، یا روٹی کے ساتھ کھانے کی چیزیں جیسے زیتون کا تیل، یا گھی، یا شہد، یا سرکہ، یا پنیر، یا دودھ، یا تل کا تیل، اور جو اس کے مشابہ ہیں تو ان میں سے کوئی چیز نہ بیچے جب تک ان پر قبضہ نہ کر لے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1348B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 46»
 
Muwatta Imam Malik Riwayat Yahya Hadith 1348 in Urdu