موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب المستحاضة
مستحاضہ کا بیان
حدیث نمبر: 137
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ: " لَيْسَ عَلَى الْمُسْتَحَاضَةِ إِلَّا أَنْ تَغْتَسِلَ غُسْلًا وَاحِدًا ثُمَّ تَتَوَضَّأُ بَعْدَ ذَلِكَ لِكُلِّ صَلَاةٍ" .
قَالَ يَحْيَى: قَالَ مَالِك: الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ إِذَا صَلَّتْ أَنَّ لِزَوْجِهَا أَنْ يُصِيبَهَا، وَكَذَلِكَ النُّفَسَاءُ إِذَا بَلَغَتْ أَقْصَى مَا يُمْسِكُ النِّسَاءَ الدَّمُ، فَإِنْ رَأَتِ الدَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ فَإِنَّهُ يُصِيبُهَا زَوْجُهَا وَإِنَّمَا هِيَ بِمَنْزِلَةِ الْمُسْتَحَاضَةِ. قَالَ يَحْيَى. قَالَ مَالِك: الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْمُسْتَحَاضَةِ عَلَى حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَهُوَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ
قَالَ يَحْيَى: قَالَ مَالِك: الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ إِذَا صَلَّتْ أَنَّ لِزَوْجِهَا أَنْ يُصِيبَهَا، وَكَذَلِكَ النُّفَسَاءُ إِذَا بَلَغَتْ أَقْصَى مَا يُمْسِكُ النِّسَاءَ الدَّمُ، فَإِنْ رَأَتِ الدَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ فَإِنَّهُ يُصِيبُهَا زَوْجُهَا وَإِنَّمَا هِيَ بِمَنْزِلَةِ الْمُسْتَحَاضَةِ. قَالَ يَحْيَى. قَالَ مَالِك: الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْمُسْتَحَاضَةِ عَلَى حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَهُوَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے، کہا انہوں نے: مستحاضہ پر ایک ہی غسل ہے، پھر وضو کیا کرے ہر نماز کے لیے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک حکم یہ ہے کہ مستحاضہ جب نماز پڑھنے لگے تو خاوند کو جماع بھی درست ہے۔ اسی طرح نفساء تو جب مدت مقرر کی انتہاء تک خون آئے اور بعد اس کے بھی خون دیکھے تو خاوند اس سے جماع کر سکتا ہے، اور یہ خون بھی منزلہ استحاضہ ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک حکم مستحاضہ کا عروہ کی حدیث کے موافق ہے، جس کو روایت کیا عروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے، جو ابتدائے باب میں گزری اور جتنی روایتیں میں نے اس باب میں سنیں اُن سے مجھ کو وہ روایت زیادہ پسند ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 137]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک حکم یہ ہے کہ مستحاضہ جب نماز پڑھنے لگے تو خاوند کو جماع بھی درست ہے۔ اسی طرح نفساء تو جب مدت مقرر کی انتہاء تک خون آئے اور بعد اس کے بھی خون دیکھے تو خاوند اس سے جماع کر سکتا ہے، اور یہ خون بھی منزلہ استحاضہ ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک حکم مستحاضہ کا عروہ کی حدیث کے موافق ہے، جس کو روایت کیا عروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے، جو ابتدائے باب میں گزری اور جتنی روایتیں میں نے اس باب میں سنیں اُن سے مجھ کو وہ روایت زیادہ پسند ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 137]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1579، 1652، 1673، 1674، والدارمي فى «مسنده» برقم: 806، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 1362، شركة الحروف نمبر: 126، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 108»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث |
هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي