🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. باب جواز وصية الصغير والضعيف والمصاب والسفيه
ضعیف اور کم سن اور مجنوں اور احمق کی وصیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1470
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ" غُلَامًا مِنْ غَسَّانَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ بِالْمَدِينَةِ، وَوَارِثُهُ بِالشَّامِ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ فُلَانًا يَمُوتُ، أَفَيُوصِي؟ قَالَ: " فَلْيُوصِ" .
قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَكَانَ الْغُلَامُ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ أَوِ اثْنَتَيْ عَشَرَةَ سَنَةً. قَالَ: فَأَوْصَى بِبِئْرِ جُشَمٍ، فَبَاعَهَا أَهْلُهَا بِثَلَاثِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ.
حضرت ابوبکر بن حزم سے روایت ہے کہ ایک لڑکا غسان کا مرنے لگا مدینہ میں، اور وارث اس کے شام میں تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر ہوا اور پوچھا گیا: کیا وصیت کرے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وصیت کرے۔ یحییٰ بن سعید نے کہا: وہ لڑکا دس برس کا تھا یا بارہ برس کا، اور بئر جشم (اس مال کا نام تھا) چھوڑ گیا اس کی وصیت کر گیا، لوگوں نے اسے تیس ہزار درہم کا بیچا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1470]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، أخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21635، والدارمي فى «مسنده» برقم: 3330، 3333، 3334، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 430، 431، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 16409، 16410، فواد عبدالباقي نمبر: 37 - كِتَابُ الْوَصِيَّةِ-ح: 3»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1470B1
قَالَ يَحْيَى: سَمِعْتُ مَالِكًا، يَقُولُ: الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا، أَنَّ الضَّعِيفَ فِي عَقْلِهِ وَالسَّفِيهَ وَالْمُصَابَ الَّذِي يُفِيقُ، أَحْيَانًا تَجُوزُ وَصَايَاهُمْ إِذَا كَانَ مَعَهُمْ مِنْ عُقُولِهِمْ مَا يَعْرِفُونَ مَا يُوصُونَ بِهِ، فَأَمَّا مَنْ لَيْسَ مَعَهُ مِنْ عَقْلِهِ مَا يَعْرِفُ بِذَلِكَ مَا يُوصِي بِهِ وَكَانَ مَغْلُوبًا عَلَى عَقْلِهِ، فَلَا وَصِيَّةَ لَهُ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ ضعیف العقل اور نادان اور مجنوں کی جس کو کبھی آفاقہ ہوجاتا ہے، وصیت درست ہے، جب اتنی عقل رکھتے ہوں کہ وصیت جو کریں اس کو سمجھیں، اگر اتنی بھی عقل نہ ہو تو اس کی وصیت درست نہیں ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1470B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 37 - كِتَابُ الْوَصِيَّةِ-ح: 3»