🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب جامع القطع
ہاتھ کاٹنے کے مختلف مسائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1573
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّ أَبَا الزِّنَادِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَامِلًا لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَذَ نَاسًا فِي حِرَابَةٍ وَلَمْ يَقْتُلُوا أَحَدًا، فَأَرَادَ أَنْ يَقْطَعَ أَيْدِيَهُمْ أَوْ يَقْتُلَ. فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي ذَلِكَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ : " لَوْ أَخَذْتَ بِأَيْسَرِ ذَلِكَ"
ابوالزناد سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز کے ایک عامل نے چند آدمیوں کو ڈکیتی میں گرفتار کیا، پر انہوں نے کسی کو قتل نہیں کیا تھا، عامل نے چاہا کہ ان کے ہاتھ کاٹے یا ان کو قتل کرے (کیونکہ ڈاکہ زنوں یا رہزنوں کی سزا یا تو قتل ہے، یا سولی ہے، یا ہاتھ پاؤں کاٹنا، یا جلاوطنی ہے)۔ پھر عمر بن عبدالعزیز کو اس بارے میں لکھا، انہوں نے جواب میں لکھا کہ اگر تو آسان امر کو (یعنی جلا وطنی یا قید کو) اختیار کرے تو بہتر ہے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1573]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17318، فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 31»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن عبد العزيز الأموي، أبو حفصثقة مأمون
👤←👥عبد الله بن ذكوان القرشي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن ذكوان القرشي ← عمر بن عبد العزيز الأموي
إمام ثقة ثبت
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ جو شخص بازار کے اُن مالوں کو چرائے جن کو مالکوں نے کسی برتن میں محفوظ کر کے رکھا ہو، ملا کر ایک درسرے سے، چوتھائی دینار کے موافق چرائے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، برابر ہے کہ مالک وہاں موجود ہو یا نہ ہو، رات کو ہو یا دن کو۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1573B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 31»

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص چوتھائی دینار کے موافق مال چرائے، پھر مالِ مسروقہ مالک کے حوالے کردے تب بھی اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص نشے کی چیز پی چکا ہو اور اس کی بو آتی ہو اس کے منہ سے، لیکن اس کو نشہ نہ ہو تو پھر بھی حد ماریں گے، کیونکہ اس نے نشے کے واسطے پیا تھا، اگرچہ نشہ نہ ہوا ہو، ایسا ہی چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا اگرچہ وہ چیز مالک کو پھیر دے کیونکہ اس نے لے جانے کے واسطے چرایا تھا اگرچہ لے نہ گیا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1573B2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 31»

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کئی آدمی مل کر مال چرانے کے لیے ایک گھر میں گھسے، اور وہاں سے ایک صندوق یا لکڑی یا زیور سب ملا کر اٹھا لائے، اگر اس کی قیمت چوتھائی دینار ہو تو سب کا ہاتھ کاٹا جائے گا، اگر ہر ایک ان میں سے جدا جدا مال لے کر نکلا تو جس کا مال چوتھائی دینار تک پہنچے گا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، اور جس کا اس سے کم ہوگا اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1573B3]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 31»

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ اگر ایک گھر ہو، اس میں ایک ہی آدمی رہتا ہو، اب کوئی آدمی اس گھر میں سے کوئی شئے چرائے لیکن گھر سے باہر نہ لے جائے، (مگراسی گھر میں ایک کوٹھڑی سے دوسری کوٹھڑی میں رکھے یا صحن میں لائے) تو اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا جب تک گھر سے باہر نہ لے جائے، البتہ اگر ایک گھر میں کئی کوٹھڑیاں الگ الگ ہوں اور ہر کوٹھڑی میں لوگ رہتے ہوں، اب کوئی شخص کوٹھڑی والے کا مال چرا کر کوٹھڑی سے باہر نکال لائے لیکن گھر سے باہر نہ نکالے تب بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1573B4]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 31»

تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 31»

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو غلام گھر میں آجاتا ہو، یا لونڈی آجاتی ہو اور اس کے مالک کو اس پر اعتبار ہو وہ اگر کوئی چیز چرائے اپنے مالک کی تو اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا، اسی طرح جو غلام یا لونڈی آمد و رفت نہ رکھتے ہوں، نہ ان کا اعتبار ہو، وہ بھی اگر اپنے مالک کا مال چرائیں تو ہاتھ نہ کاٹا جائے گا، اور جو اپنے مالک کی بیوی کا مال چرائیں یا اپنی مالکہ کے خاوند کا مال چرائیں تو ہاتھ کاٹا جائے گا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1573B6]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 31»

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اسی طرح مرد اپنی عورت کے اس مال کو چرائے جو اس گھر میں نہ ہو جہاں وہ دونوں رہتے ہیں، بلکہ ایک اور گھر میں محفوظ ہو، یا عورت اپنے خاوند کے ایسے مال کو چرائے جو اس گھر میں نہ ہو جہاں وہ دونوں رہتے ہیں بلکہ ایک اور گھر میں بند ہو، تو ہاتھ کاٹا جائے گا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1573B7]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 31»

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ چھوٹا بچہ یا غیر ملک کا آدمی جو بات نہیں کر سکتا، ان کو اگر کوئی ان کے گھر سے چرا لے جائے تو ہاتھ کاٹا جائے گا، اور جو راہ میں سے لے جائے یا گھر کے باہر سے تو ہاتھ نہ کاٹا جائے گا، اور ان کا حکم پہاڑ کی بکری اور درخت پر لگے ہوئے میوے کا ہوگا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1573B8]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 31»

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ قبر کھود کر اگر چوتھائی دینار کے موافق کفن چرائے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، کیونکہ قبر ایک محفوظ جگہ ہے جیسے گھر، لیکن جب تک کفن قبر سے باہر نکال نہ لے تب تک ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1573B9]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 31»