موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. باب جامع ما جاء فى الطعام والشراب
کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 1693
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ يَأْكُلُ خُبْزًا بِسَمْنٍ، فَدَعَا رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ وَيَتَّبِعُ بِاللُّقْمَةِ وَضَرَ الصَّحْفَةِ، فَقَالَ عُمَرُ :" كَأَنَّكَ مُقْفِرٌ؟" فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أَكَلْتُ سَمْنًا وَلَا لُكْتُ أَكْلًا بِهِ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ عُمَرُ: " لَا آكُلُ السَّمْنَ حَتَّى يَحْيَا النَّاسُ مِنْ أَوَّلِ مَا يَحْيَوْنَ"
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ روٹی گھی سے لگا کر کھا رہے تھے، ایک بدو آیا، آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو بلایا، وہ بھی کھانے لگا اور روٹی کے ساتھ جو گھی کا میل کچیل پیالے میں لگ رہا تھا وہ بھی کھانے لگا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بڑا ندیدہ ہے (یعنی تجھ کو سالن میسر نہیں ہوا)۔ اس نے کہا: قسم اللہ کی! میں نے اتنی مدت سے گھی نہیں کھایا، نہ اس کے ساتھ کھاتے دیکھا (اس وجہ سے کہ اس زمانے میں ایک مدت سے قحط تھا، لوگ تکلیف میں مبتلا تھے)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی گھی نہ کھاؤں گا جب تک کہ لوگوں کی حالت پہلے کی سی نہ ہو جائے (یعنی قحط جاتا رہے اور ارزانی ہو جائے)۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1693]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 5682، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 34453، فواد عبدالباقي نمبر: 49 - كِتَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-ح: 29»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص | صحابي | |
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد يحيى بن سعيد الأنصاري ← عمر بن الخطاب العدوي | ثقة ثبت |
Muwatta Imam Malik Riwayat Yahya Hadith 1693 in Urdu
يحيى بن سعيد الأنصاري ← عمر بن الخطاب العدوي