موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب ما جاء فى سجود القرآن
سجدۂ تلاوت کے بیان میں (سجدۂ تلاوت سنت ہے یا مستحب ہے)
حدیث نمبر: 484
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَرَأَ سَجْدَةً وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَنَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ، ثُمَّ قَرَأَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى فَتَهَيَّأَ النَّاسُ لِلسُّجُودِ، فَقَالَ عَلَى:" رِسْلِكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَكْتُبْهَا عَلَيْنَا إِلَّا أَنْ نَشَاءَ" فَلَمْ يَسْجُدْ وَمَنَعَهُمْ أَنْ يَسْجُدُوا
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آیت سجدہ کی منبر پر پڑھی جمعہ کے روز، اور منبر پر سے اتر کو سجدہ کیا تو لوگوں نے بھی ان کے ساتھ سجدہ کیا، پھر دوسرے جمعہ میں اس کو پڑھا اور لوگ مستعد ہوئے سجدہ کو، تب کہا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے: اپنے حال پر رہو، اللہ جل جلالہُ نے سجدۂ تلاوت کو ہمارے اوپر فرض نہیں کیا ہے، مگر جب ہم چاہیں تو سجدہ کریں، پس سجدہ نہ کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اور منع کیا ان کو سجدہ کرنے سے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 484]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1077، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3824، 5877، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 5912، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 4392، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 2083، شركة الحروف نمبر: 444، فواد عبدالباقي نمبر: 15 - كِتَابُ الْقُرْآنِ-ح: 16»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عمر بن الخطاب العدوي | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث |
حدیث نمبر: 484B1
قَالَ مَالِك: لَيْسَ الْعَمَلُ عَلَى أَنْ يَنْزِلَ الْإِمَامُ إِذَا قَرَأَ السَّجْدَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَيَسْجُدَ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارا مذہب اس پر نہیں ہے کہ اگر امام منبر پر آیت سجدہ کی پڑھے تو منبر سے اتر کر سجدہ کرے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 484B1]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر: 444، فواد عبدالباقي نمبر: 15 - كِتَابُ الْقُرْآنِ-ح: 16»
حدیث نمبر: 484B2
قَالَ مَالِك: الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ عَزَائِمَ سُجُودِ الْقُرْآنِ إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً لَيْسَ فِي الْمُفَصَّلِ مِنْهَا شَيْءٌ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ مؤکد سجدے قرآن میں گیارہ ہیں، ان میں سے مفصل میں کوئی نہیں ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 484B2]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر: 444، فواد عبدالباقي نمبر: 15 - كِتَابُ الْقُرْآنِ-ح: 16»
حدیث نمبر: 484B3
قَالَ مَالِك: لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ يَقْرَأُ مِنْ سُجُودِ الْقُرْآنِ شَيْئًا بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَلَا بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى" عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَعَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَالسَّجْدَةُ مِنَ الصَّلَاةِ، فَلَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقْرَأَ سَجْدَةً فِي تَيْنِكَ السَّاعَتَيْنِ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: کسی شخص کو نہ چاہیے کہ بعد نمازِ عصر کے اور فجر کے آیت سجدہ کی پڑھے، اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا نماز سے بعد صبح کے یہاں تک کہ طلوع ہو آفتاب، اور منع کیا نماز سے بعد عصر کی یہاں تک کہ غروب ہو آفتاب، اور سجدۂ تلاوت بھی بمنزلہ نماز کے ہے، تو کسی شخص کو نہیں چاہیے کہ آیت سجدہ کی ان دونوں وقتوں میں پڑھے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 484B3]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر: 444، فواد عبدالباقي نمبر: 15 - كِتَابُ الْقُرْآنِ-ح: 16»
حدیث نمبر: 484B4
سُئِلَ مَالِك عَمَّنْ قَرَأَ سَجْدَةً وَامْرَأَةٌ حَائِضٌ تَسْمَعُ، هَلْ لَهَا أَنْ تَسْجُدَ؟ قَالَ مَالِك: لَا يَسْجُدُ الرَّجُلُ وَلَا الْمَرْأَةُ إِلَّا وَهُمَا طَاهِرَانِ
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے آیت سجدہ کی پڑھی اور ایک عورت حائضہ نے سنا، کیا وہ عورت بھی سجدہ کرے؟ تو جواب دیا امام مالک رحمہ اللہ نے کہ نہیں، مرد یا عورت دونوں کو سجدہ جب ہی درست ہے کہ وہ دونوں باوضو ہوں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 484B4]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر: 444، فواد عبدالباقي نمبر: 15 - كِتَابُ الْقُرْآنِ-ح: 16»
حدیث نمبر: 484B5
وَسُئِلَ عَنِ امْرَأَةٍ قَرَأَتْ سَجْدَةً وَرَجُلٌ مَعَهَا يَسْمَعُ أَعَلَيْهِ أَنْ يَسْجُدَ مَعَهَا، قَالَ مَالِك: لَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يَسْجُدَ مَعَهَا إِنَّمَا تَجِبُ السَّجْدَةُ عَلَى الْقَوْمِ يَكُونُونَ مَعَ الرَّجُلِ فَيَأْتَمُّونَ بِهِ، فَيَقْرَأُ السَّجْدَةَ فَيَسْجُدُونَ مَعَهُ، وَلَيْسَ عَلَى مَنْ سَمِعَ سَجْدَةً مِنْ إِنْسَانٍ يَقْرَؤُهَا لَيْسَ لَهُ بِإِمَامٍ أَنْ يَسْجُدَ تِلْكَ السَّجْدَةَ
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ایک عورت نے آیت سجدہ کی پڑھی اور کسی مرد نے اس کو سنا، کیا وہ مرد بھی سجدہ کرے عورت کے ساتھ؟ جواب دیا: نہیں، بلکہ سجدہ سننے والے پر جب واجب ہوتا ہے کہ وہ سننے والے مقتدی ہوں اس شخص کے جو آیت سجدہ کی پڑھتا ہے، اور یہ بات نہیں ہے کہ جو شخص آیت سجدہ کی کسی سے سنے اور وہ مقتدی نہ ہو پڑھنے والے کا تو وہ سجدہ کرے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 484B5]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر: 444، فواد عبدالباقي نمبر: 15 - كِتَابُ الْقُرْآنِ-ح: 16»
عروة بن الزبير الأسدي ← عمر بن الخطاب العدوي