🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب جامع الوضوء
اس باب میں مختلف مسائل طہارت کے مذکور ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 65
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا وَاعْمَلُوا وَخَيْرُ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةُ وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ"
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سیدھی راہ پر رہو، اور نہ شمار کر سکو گے تم اس کے ثواب کو، یا نہ طاقت رکھو گے تم استقامت کی، اور سب کاموں میں تمہارے لیے بہتر نماز ہے، اور نہ محافظت کرے گا وضو پر مگر مؤمن۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 65]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، و أخرجه ابن ماجه فى «سننه» برقم:277، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7463 7464 والحميدي فى «مسنده» برقم: 997، 998، والدارمي فى «سننه» برقم: 655، 656، وابن حبان فى «صحيحه» برقم:1294، 1295، والطبراني فى «الصغير» برقم: 256، 942، شركة الحروف نمبر: 60، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 36» شیخ سلیم ہلالی نے اس روایت کو صحیح لغیرہ کہا ہے اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے۔

موطا امام مالك رواية يحييٰ کی حدیث نمبر 65 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافظ ابو سمیعہ محمود تبسم، فوائد، موطا امام مالک : 65
فائدہ: یعنی تمہاری کوشش تو یہی ہو کہ استقامت کا اور سیدھی راہ پر قائم رہنے کا مکمل حق ادا ہو جائے جیسا کہ فرمان الٰہی ہے: «اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَاتِهِ» [آل عمران 3: 102] اللہ سے یوں ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ لیکن ہم سب انسان چونکہ نقائص سے بھر پور ہیں اور ہر جانب دنیوی الجھنیں اور دلچسپیاں ہمارے لیے رکاوٹ بنتی رہتی ہیں، اس لیے یہ بھی فرما دیا: «فاتقوا الله ما اسْتَطَعْتُمْ» [التغابن 16: 64] اللہ سے اس قدر ڈرو جتنی تم میں طاقت ہے۔ نیز ثابت ہوا کہ حفاظت و احتیاط سے وضو کرنا ایمان کی نشانی ہے اور جو کوتاہی کرے اس کے ایمان میں کمی ہے۔
[موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 65]