🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب ما جاء فى المسح بالرأس والأذنين
سر اور کانوں کے مسح کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 66
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ،" كَانَ يَأْخُذُ الْمَاءَ بِأُصْبُعَيْهِ لِأُذُنَيْهِ"
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے کانوں کے مسح کے واسطے دو انگلیوں سے پانی لیتے تھے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 66]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 66، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 310، 311، الأوسط لابن المنذر برقم: 397، شركة الحروف نمبر: 61، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 37» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے اس روایت کو صحیح کہا ہے، امام بیہقی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں ہے۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
موطا امام مالك رواية يحييٰ کی حدیث نمبر 66 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافظ ابو سمیعہ محمود تبسم، فوائد، موطا امام مالک : 66
فائدہ: اس روایت کی بنا پر محققین علماء کے ہاں کانوں کے مسح کے لیے الگ پانی لینا جائز ہے اور بیہقی و حاکم کی جو روایت اس بارے میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے پیش کی جاتی ہے، وہ اس سند سے صحیح مسلم [حديث: 238] میں موجود ہے اور اس میں سر کے لیے نیا پانی لینے کا تذکرہ ہے، نہ کہ کانوں کے لیے، اسی لیے محدثین نے بیہقی و حاکم کی روایت کو شاذ قرار دیا ہے، بہر حال کانوں کے لیے نیا پانی نہ لینا بہتر اور افضل ہے اور لے لینا صرف جائز ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کانوں کے لیے الگ پانی لینا ثابت نہیں ہو سکا بلکہ پیچھے [موطا كي روايت: 59] سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ کان تو سر ہی کا حصہ ہیں، لٰہذا سر والا پانی کانوں کے لیے کافی ہے۔
[موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 66]