🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب زكاة أموال اليتامى والتجارة لهم فيها
یتیم کے مال کی زکوٰۃ کا بیان اور اس میں تجارت کرنے کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 665
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ،" أَنَّهُ اشْتَرَى لِبَنِي أَخِيهِ يَتَامَى فِي حِجْرِهِ مَالًا فَبِيعَ ذَلِكَ الْمَالُ بَعْدُ بِمَالٍ كَثِيرٍ"
یحیٰی بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی کے یتیم لڑکوں کے واسطے کچھ مال خریدا، پھر وہ مال بڑی قیمت کا بکا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 665]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، انفرد به المصنف من هذا الطريق، شركة الحروف نمبر: 540، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 15»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيدثقة ثبت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 665B
قَالَ مَالِك: لَا بَأْسَ بِالتِّجَارَةِ فِي أَمْوَالِ الْيَتَامَى لَهُمْ إِذَا كَانَ الْوَلِيُّ مَأْمُونًا فَلَا أَرَى عَلَيْهِ ضَمَانًا
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: یتیم کے مال میں تجارت کرنا کچھ بُرا نہیں ہے جب ولی یتیم کا معتبر دیانت دار ہو اور اس پر تاوان لازم نہ ہوگا اگر نقصان ہو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 665B]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر: 540، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 15»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 666Q1
مَالِكٌ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا هَلَكَ وَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاةَ مَالِهِ، إِنِّي أَرَى أَنْ يُؤْخَذَ ذَلِكَ مِنْ ثُلُثِ مَالِهِ، وَلَا يُجَاوَزُ بِهَا الثُّلُثُ وَتُبَدَّأَ عَلَى الْوَصَايَا، وَأَرَاهَا بِمَنْزِلَةِ الدَّيْنِ عَلَيْهِ فَلِذَلِكَ رَأَيْتُ أَنْ تُبَدَّأَ عَلَى الْوَصَايَا، [1/355] قَالَ: وَذَلِكَ إِذَا أَوْصَى بِهَا الْمَيِّتُ، قَالَ: فَإِنْ لَمْ يُوصِ بِذَلِكَ الْمَيِّتُ فَفَعَلَ ذَلِكَ أَهْلُهُ فَذَلِكَ حَسَنٌ، وَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ أَهْلُهُ، لَمْ يَلْزَمْهُمْ ذَلِكَ.
.امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک شخص مر گیا اور اس نے اپنے مال کی زکوٰۃ نہیں دی تو اس کے تہائی مال سے زکوٰۃ وصول کی جائے، نہ زیادہ اس سے، اور یہ زکوٰۃ مقدم ہوگی اس کی وصیتوں پر، کیونکہ زکوٰۃ مثل دین (قرض) کے ہے اس پر، اسی واسطے وصیت پر مقدم کی جائے گی، مگر یہ حکم جب ہے کہ میت نے وصیت کی ہو زکوٰۃ ادا کرنے کی، اگر وہ وصیت نہ کرے لیکن وارث اس کے ادا کریں تو بہتر ہے مگر ان کو ضروری نہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 666Q1]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر: 541، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 16»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 666Q2
قَالَ: قَالَ مَالِكٌ: السُّنَّةُ عِنْدَنَا الَّتِي لَا اخْتِلَافَ فِيهَا، أَنَّهُ لَا تَجِبُ عَلَى وَارِثٍ زَكَاةٌ فِي مَالٍ وَرِثَهُ فِي دَيْنٍ، وَلَا عَرْضٍ وَلَا دَارٍ، وَلَا عَبْدٍ وَلَا وَلِيدَةٍ، حَتَّى يَحُولَ عَلَى ثَمَنِ مَا بَاعَ مِنْ ذَلِكَ أَوِ اقْتَضَى الْحَوْلُ مِنْ يَوْمَ مَا بَاعَهُ وَقَبَضَهُ.
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: ہمارے نزدیک سنّتِ اتفاقی یہ ہے کہ وارث پر زکوٰۃ واجب نہیں اس مال کی جو وراثت کی رُو سے اس کو پہنچا، نہ دین میں، نہ اسباب میں، نہ گھر میں، نہ غلام میں، نہ لونڈی میں۔ البتہ ترکے میں سے جب کسی شے کو بیچے اور اس کی بیع پر یا زرِ ثمن کے وصول پر ایک سال گزر جائے تو زکوٰۃ واجب ہوگی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 666Q2]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر: 541، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 16»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 666Q3
- قَالَ: قَالَ مَالِكٌ: السُّنَّةُ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَا تَجِبُ عَلَى وَارِثٍ فِي مَالٍ وَرِثَهُ الزَّكَاةُ، حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ.
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ وارث پر اس مال جو وراثت کی رُو سے اس کو پہنچا زکوٰۃ واجب نہیں ہے یہاں تک کہ ایک سال اس پر گزرے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 666Q3]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر: 541، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 16»