موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب وقوت الصلاة
نماز کے وقتوں کا بیان
حدیث نمبر: 9
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: " كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ، ثُمَّ يَخْرُجُ الْإِنْسَانُ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَيَجِدُهُمْ يُصَلُّونَ الْعَصْرَ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عصر پڑھتے تھے، پھر ہم میں سے کوئی بنی عمرو بن عوف کے محلہ میں جاتا تو ان کو عصر کی نماز میں پاتا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 9]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 548، 550، 551، 7329، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 621، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1518، 1519، 1520، 1522، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 505، 506، 507، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1507، وأبو داود فى «سننه» برقم: 404، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1244، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 682، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2106، 2107، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12525، 12839، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 3593، 3604، 3605، 4318، شركة الحروف نمبر: 9، فواد عبدالباقي نمبر: 1 - كِتَابُ وُقُوتِ الصَّلَاةِ-ح: 10»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥إسحاق بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو يحيى، أبو نجيح إسحاق بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة حجة |
موطا امام مالك رواية يحييٰ کی حدیث نمبر 9 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافظ ابو سمیعہ محمود تبسم، فوائد، موطا امام مالک : 9
فائدہ:
یہ محلّہ مدینہ میں مسجد نبوی سے تین میل کے فاصلے پر ہے اور اس سے مراد ”بستی قبا“ ہی ہے جہاں بنو عمرو بن عوف آباد تھے جیسا کہ اگلی روایت میں آرہا ہے، یہ لوگ کھیتی باڑی والے تھے اور ضروری کاموں سے فارغ ہو کر نمازِ عصر ادا کرتے تھے، الغرض معلوم ہوا کہ رسول اللہ سلم نماز عصر کو اول وقت ہی میں ادا فرما لیتے تھے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کی مسجدوں میں نمازوں کے اوقات یکساں نہیں تھے کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ ان میں وسعت ہے۔
یہ محلّہ مدینہ میں مسجد نبوی سے تین میل کے فاصلے پر ہے اور اس سے مراد ”بستی قبا“ ہی ہے جہاں بنو عمرو بن عوف آباد تھے جیسا کہ اگلی روایت میں آرہا ہے، یہ لوگ کھیتی باڑی والے تھے اور ضروری کاموں سے فارغ ہو کر نمازِ عصر ادا کرتے تھے، الغرض معلوم ہوا کہ رسول اللہ سلم نماز عصر کو اول وقت ہی میں ادا فرما لیتے تھے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کی مسجدوں میں نمازوں کے اوقات یکساں نہیں تھے کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ ان میں وسعت ہے۔
[موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 9]
Muwatta Imam Malik Riwayat Yahya Hadith 9 in Urdu
إسحاق بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري