موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب ما يكره من الشيء يجعل فى سبيل اللہ
کون سی بات اللہ کے راستے میں بری ہے (یعنی دھوکہ دینا)
حدیث نمبر: 995
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَحْمِلُ فِي الْعَامِ الْوَاحِدِ عَلَى أَرْبَعِينَ أَلْفِ بَعِيرٍ، يَحْمِلُ الرَّجُلَ إِلَى الشَّامِ عَلَى بَعِيرٍ، وَيَحْمِلُ الرَّجُلَيْنِ إِلَى الْعِرَاقِ عَلَى بَعِيرٍ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، فَقَالَ: احْمِلْنِي وَسُحَيْمًا، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ :" نَشَدْتُكَ اللَّهَ، أَسُحَيْمٌ زِقٌّ؟" قَالَ لَهُ: نَعَمْ
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک برس میں چالیس ہزار اونٹ بھیجتے تھے شام کے جانے والوں کو۔ فی آدمی ایک ایک اونٹ دیتے، اور عراق کے جانے والوں کو دو آدمیوں میں ایک اونٹ دیتے تھے، ایک شخص عراق کا رہنے والا آیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بولا کہ مجھ کو اور سحیم کو ایک اونٹ دیجئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تجھ کو قسم دیتا ہوں اللہ کی سحیم سے تیری مراد مشک ہے؟ وہ بولا: ہاں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 995]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 21 - كِتَابُ الْجِهَادِ-ح: 38»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص | صحابي | |
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد يحيى بن سعيد الأنصاري ← عمر بن الخطاب العدوي | ثقة ثبت |
Muwatta Imam Malik Riwayat Yahya Hadith 995 in Urdu
يحيى بن سعيد الأنصاري ← عمر بن الخطاب العدوي