🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
192. باب الرد على الإمام
باب: امام کو سلام کا جواب دینا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1001
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو الْجَمَاهِرِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ:" أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَرُدَّ عَلَى الْإِمَامِ، وَأَنْ نَتَحَابَّ، وَأَنْ يُسَلِّمَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں امام کے سلام کا جواب دینے اور آپس میں دوستی رکھنے اور ایک دوسرے کو سلام کرنے کا حکم دیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1001]
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا: امام کو (اس کے سلام کا) جواب دیں، اور یہ کہ آپس میں محبت رکھیں اور ایک دوسرے کو سلام کیا کریں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1001]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 30 (922)، (تحفة الأشراف: 4597) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے روای سعید شامی ضعیف ہیں اور قتادہ اور حسن بصری مدلس ہیں نیز: حسن بصری کا سمرة سے حدیث عقیقہ کے سوا سماع ثابت نہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (922)
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 47
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سمرة بن جندب الفزاري، أبو محمد، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو سليمانصحابي
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← سمرة بن جندب الفزاري
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← الحسن البصري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن بشير الأزدي، أبو هشام، أبو سلمة، أبو عبد الرحمن
Newسعيد بن بشير الأزدي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ضعيف الحديث
👤←👥محمد بن عثمان التنوخي، أبو الجماهر، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن عثمان التنوخي ← سعيد بن بشير الأزدي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1001
نرد على الإمام نتحاب يسلم بعضنا على بعض
سنن ابن ماجه
922
نسلم على أئمتنا يسلم بعضنا على بعض
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1001 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1001
1001۔ اردو حاشیہ:
امام کو سلام کا جواب دیں۔ کا مطلب ہے کہ مقتدی سلام پھیرتے وقت امام کو سلام کا جواب دینے کی نیت کریں۔ لیکن یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔ جس سے کسی حکم کا اثبات نہیں ہو سکتا۔ تاہم اس کے اگلے حصے میں باہم محبت رکھنے اور ایک دوسرے کو سلام کرنے کا جو حکم ہے، وہ صحیح ہے کیونکہ یہ دونوں باتیں صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1001]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث922
امام کے سلام کا جواب دینے کا بیان۔
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اپنے اماموں کو اور باہم ایک دوسرے کو سلام کریں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 922]
اردو حاشہ:
فائدہ:
یہ دونوں روایات ضعیف ہیں۔
اس لئے ان سے جواب دینے کا مسئلہ ثابت نہیں ہوتا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 922]

Sunan Abi Dawud Hadith 1001 in Urdu