علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
248. باب وقت الخروج إلى العيد
باب: عید کے لیے نکلنے کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1135
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ الرَّحَبِيُّ، قَالَ:" خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ فِي يَوْمِ عِيدِ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى، فَأَنْكَرَ إِبْطَاءَ الْإِمَامِ، فَقَالَ: إِنَّا كُنَّا قَدْ فَرَغْنَا سَاعَتَنَا هَذِهِ وَذَلِكَ حِينَ التَّسْبِيحِ".
یزید بن خمیر رحبی سے روایت ہے کہ صحابی رسول عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن نکلے، تو انہوں نے امام کے دیر کرنے کو ناپسند کیا اور کہا: ہم تو اس وقت عید کی نماز سے فارغ ہو جاتے تھے اور یہ اشراق پڑھنے کا وقت تھا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1135]
جناب یزید بن خمیر الرحبی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحیٰ کے لیے تشریف لائے تو امام کے تاخیر کر دینے کو انہوں نے ناپسند کیا اور کہا: ”ہم تو اس وقت فارغ ہو چکے ہوتے تھے“ یعنی اشراق کے وقت۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1135]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 170 (1317)، (تحفة الأشراف: 5206) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1135 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، ابوداود 1135
عید الفطر یا عید الاضحی کے دن امام کا (نماز میں) تاخیر کرنا
یزید بن خمیر الرحبی (تابعی)رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن بُسر رضی اللہ عنہ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن (عید گاہ کی طرف) گئے تو انہوں نے امام کا (نماز میں) تاخیر کر دینے کو ناپسند کیا۔ [سنن ابي داود: 1135، سنن ابن ماجه: 1317 وسنده صحيح وصححه الحاكم على شرط البخاري1/ 295ووافقه الذهبي]
صفوان بن عمرو السکسکی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ (عید کے) خطبے اور نماز کے لیے (عیدگاہ) جانے میں جلدی کرتے تھے۔ [احكام العيدين للفريابي ص 109 ح 37 وسنده صحيح]
امام ابن شہاب الزہری رحمہ اللہ نے فرمایا: لوگ عید کے دن تکبیر کہتے ہوئے اپنے گھروں سے عیدگاہ جاتے اور جب امام آ جاتا تو خامو ش ہو جاتے، جب امام (نماز کے لئے) تکبیر کہتا تو وہ بھی تکبیر کہتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه2/ 164 ح 1135، احكام العيدين للفريابي ص 117 ح 59 وسنده صحيح]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مسجد سے تکبیر کہتے ہوئے عیدگاہ کی طرف جاتے اور تکبیر کہتے رہتے حتٰی کہ امام آ جاتا۔ [سنن الدارقطني2/ 43 ح 1696، وسنده حسن، محمد بن عجلان صرح بالسماع عند البيهقي فى السنن الكبريٰ3/ 279 و صححه الالباني فى ارواء الغليل3/ 122]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھیں . . .
تحقیقی مقالات جلد 2 صفحہ 48
یزید بن خمیر الرحبی (تابعی)رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن بُسر رضی اللہ عنہ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن (عید گاہ کی طرف) گئے تو انہوں نے امام کا (نماز میں) تاخیر کر دینے کو ناپسند کیا۔ [سنن ابي داود: 1135، سنن ابن ماجه: 1317 وسنده صحيح وصححه الحاكم على شرط البخاري1/ 295ووافقه الذهبي]
صفوان بن عمرو السکسکی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ (عید کے) خطبے اور نماز کے لیے (عیدگاہ) جانے میں جلدی کرتے تھے۔ [احكام العيدين للفريابي ص 109 ح 37 وسنده صحيح]
امام ابن شہاب الزہری رحمہ اللہ نے فرمایا: لوگ عید کے دن تکبیر کہتے ہوئے اپنے گھروں سے عیدگاہ جاتے اور جب امام آ جاتا تو خامو ش ہو جاتے، جب امام (نماز کے لئے) تکبیر کہتا تو وہ بھی تکبیر کہتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه2/ 164 ح 1135، احكام العيدين للفريابي ص 117 ح 59 وسنده صحيح]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مسجد سے تکبیر کہتے ہوئے عیدگاہ کی طرف جاتے اور تکبیر کہتے رہتے حتٰی کہ امام آ جاتا۔ [سنن الدارقطني2/ 43 ح 1696، وسنده حسن، محمد بن عجلان صرح بالسماع عند البيهقي فى السنن الكبريٰ3/ 279 و صححه الالباني فى ارواء الغليل3/ 122]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھیں . . .
تحقیقی مقالات جلد 2 صفحہ 48
[تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 48]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1135
1135۔ اردو حاشیہ:
نماز عید کے لئے بہت زیادہ تاخیر کرنا اچھا نہیں ہے۔
نماز عید کے لئے بہت زیادہ تاخیر کرنا اچھا نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1135]
Sunan Abi Dawud Hadith 1135 in Urdu
يزيد بن خميرالرحبي ← عبد الله بن بسر النصري