سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
250. باب الخطبة يوم العيد
باب: عید کے دن خطبہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1143
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ:" فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ، فَمَشَى إِلَيْهِنَّ وَبِلَالٌ مَعَهُ، فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ" فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْقُرْطَ وَالْخَاتَمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ.
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے اس میں یہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہوا کہ آپ عورتوں کو نہیں سنا سکے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف چلے اور بلال رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے، آپ نے انہیں وعظ و نصیحت کی اور صدقہ کا حکم دیا، تو عورتیں بالی اور انگوٹھی بلال کے کپڑے میں ڈال رہی تھیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1143]
ایوب نے عطاء سے، انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہوا کہ عورتوں نے (آپ کا خطبہ) نہیں سنا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف چلے اور بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وعظ فرمایا اور صدقہ کرنے کا حکم دیا، تو کوئی بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں اپنی بالی ڈال رہی تھی تو کوئی اپنی انگوٹھی۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1143]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5883) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (98) صحيح مسلم (884)
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 1143 in Urdu
عطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي