سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
250. باب الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ
باب: عید کے دن خطبہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1140
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ. ح وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، فَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا مَرْوَانُ خَالَفْتَ السُّنَّةَ أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ فِيهِ، وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، فَقَالَ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى، مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مروان عید کے روز منبر لے کر گئے اور نماز سے پہلے خطبہ شروع کر دیا تو ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: مروان! آپ نے خلاف سنت کام کیا ہے، ایک تو آپ عید کے روز منبر لے کر گئے حالانکہ اس دن منبر نہیں لے جایا جاتا تھا، دوسرے آپ نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کر دیا، تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: فلاں بن فلاں ہے اس پر انہوں نے کہا: اس شخص نے اپنا حق ادا کر دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو تم میں سے کوئی منکر دیکھے اور اسے اپنے ہاتھ سے مٹا سکے تو اپنے ہاتھ سے مٹائے اور اگر ہاتھ سے نہ ہو سکے تو اپنی زبان سے مٹائے اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو دل سے اسے برا جانے اور یہ ایمان کا ادنی درجہ ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1140]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مروان نے عید کے روز منبر نکلوایا اور نماز سے پہلے خطبہ دینا شروع کیا۔ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: ”اے مروان! تم نے سنت کی مخالفت کی ہے، عید کے روز منبر نکلوایا ہے جب کہ اس دن یہ نہ نکالا جاتا تھا اور نماز سے پہلے خطبے سے ابتدا کی ہے۔“ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”یہ فلاں بن فلاں ہے۔“ انہوں نے کہا: ”اس نے اپنا فریضہ ادا کر دیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”(تم میں سے) جو کوئی برائی دیکھے اور اسے اپنے ہاتھ سے دور کر سکتا ہو تو ہاتھ سے دور کرے، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو زبان سے یہ کام کرے، اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو دل سے برا جانے اور یہ کمزور ترین ایمان ہے۔““ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1140]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 20 (49)، سنن الترمذی/الفتن 11 (2172)، سنن النسائی/الإیمان 17 (5011، 5012)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 155 (1275)، (تحفة الأشراف: 4085)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/10، 20، 49، 52، 53، 54، 92)، وأعادہ المصنف فی الملاحم (4340) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (49)
حدیث نمبر: 1141
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى، فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فَأَتَى النِّسَاءَ فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلَالٍ، وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ تُلْقِي فِيهِ النِّسَاءُ الصَّدَقَةَ". قَالَ: تُلْقِي الْمَرْأَةُ فَتَخَهَا وَيُلْقِينَ وَيُلْقِينَ، وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: فَتَخَتَهَا.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن کھڑے ہوئے تو خطبہ سے پہلے نماز ادا کی، پھر لوگوں کو خطبہ دیا تو جب اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو کر اترے تو عورتوں کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں وعظ و نصیحت کی اور آپ بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے اور بلال رضی اللہ عنہ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے، جس میں عورتیں صدقہ ڈالتی جاتی تھیں، کوئی اپنا چھلا ڈالتی تھی اور کوئی کچھ ڈالتی اور کوئی کچھ۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1141]
جناب عطاء، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ میں نے ان کو سنا بیان کرتے تھے: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے روز کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے سے پہلے نماز سے ابتدا فرمائی پھر لوگوں کو خطبہ دیا۔ جب اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو اترے اور عورتوں کے پاس آئے اور انہیں وعظ و نصیحت فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کا سہارا لیے ہوئے تھے اور بلال رضی اللہ عنہ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے۔ عورتیں اس میں اپنے صدقات ڈالتی جاتی تھیں۔ کوئی اپنی انگوٹھی ڈالتی تھی، کوئی کچھ اور کوئی کچھ۔“ ابن بکر نے ”( «فتخها» کی بجائے) «فتختها» کا لفظ استعمال کیا۔ (یعنی انگوٹھی)“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1141]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العیدین 7 (961)، صحیح مسلم/العیدین (885)، (تحفة الأشراف: 2449)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/العیدین 6 (1563)، 19 (1576)، مسند احمد (3/314، 318)، سنن الدارمی/الصلاة 218 (1644) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (978) صحيح مسلم (884)
حدیث نمبر: 1142
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَشَهِدَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمَ فِطْرٍ فَصَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ". قَالَ ابْنُ كَثِيرٍ: أَكْبَرُ عِلْمِ شُعْبَةَ، فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ.
عطاء کہتے ہیں: میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں گواہی دیتا ہوں اور ابن عباس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دی ہے کہ آپ عید الفطر کے دن نکلے، پھر نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا، پھر آپ عورتوں کے پاس آئے اور بلال رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ ابن کثیر کہتے ہیں: شعبہ کا غالب گمان یہ ہے کہ (اس میں یہ بھی ہے کہ) آپ نے انہیں صدقہ کا حکم دیا تو وہ (اپنے زیورات وغیرہ بلال کے کپڑے میں) ڈالنے لگیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1142]
جناب عطاء سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: ”میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما پر شہادت دیتا ہوں اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر شہادت دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن نکلے، نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا، اس کے بعد عورتوں کے پاس آئے اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔“ ابن کثیر نے کہا: ”شعبہ کا غالب گمان ہے کہ (ایوب نے یہ جملہ بھی کہا تھا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خواتین کو صدقہ کرنے کا حکم دیا تو وہ (اپنے صدقات سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں) ڈالنے لگیں۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1142]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 161 (863)، والعیدین 16 (975)، 18 (977)، والزکاة 33 (1449)، والنکاح 125 (5249)، واللباس 56 (5880)، والاعتصام 16 (7325)، صحیح مسلم/العیدین (884)، سنن النسائی/العیدین 13 (1570)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 155 (1273)، (تحفة الأشراف: 5883)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/220، 226، 243، 345، 346، 357، 368)، سنن الدارمی/الصلاة 218 (1644)، و انظر ما یأتي برقم (1159) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (98) صحيح مسلم (884)
حدیث نمبر: 1143
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ:" فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ، فَمَشَى إِلَيْهِنَّ وَبِلَالٌ مَعَهُ، فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ" فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْقُرْطَ وَالْخَاتَمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ.
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے اس میں یہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہوا کہ آپ عورتوں کو نہیں سنا سکے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف چلے اور بلال رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے، آپ نے انہیں وعظ و نصیحت کی اور صدقہ کا حکم دیا، تو عورتیں بالی اور انگوٹھی بلال کے کپڑے میں ڈال رہی تھیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1143]
ایوب نے عطاء سے، انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہوا کہ عورتوں نے (آپ کا خطبہ) نہیں سنا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف چلے اور بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وعظ فرمایا اور صدقہ کرنے کا حکم دیا، تو کوئی بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں اپنی بالی ڈال رہی تھی تو کوئی اپنی انگوٹھی۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1143]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5883) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (98) صحيح مسلم (884)
حدیث نمبر: 1144
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُعْطِي الْقُرْطَ وَالْخَاتَمَ، وَجَعَلَ بِلَالٌ يَجْعَلُهُ فِي كِسَائِهِ، قَالَ: فَقَسَمَهُ عَلَى فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی اسی حدیث میں ہے عورتیں بالی اور انگوٹھی (صدقہ میں) دینے لگیں اور بلال رضی اللہ عنہ انہیں اپنی چادر میں رکھتے جاتے تھے وہ کہتے ہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مسلمان فقراء کے درمیان تقسیم کر دیا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1144]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس حدیث میں بیان کیا کہ ”کوئی عورت اپنی بالی دینے لگی اور کوئی اپنی انگوٹھی اور بلال رضی اللہ عنہ انہیں اپنے کپڑے میں جمع کرتے جاتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال کو فقیر مسلمانوں میں تقسیم کر دیا۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1144]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1142، (تحفة الأشراف: 5883) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (98) صحيح مسلم (884)