پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب رفع اليدين في الاستسقاء
باب: نماز استسقا میں دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1173
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: شَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُحُوطَ الْمَطَرِ، فَأَمَرَ بِمِنْبَرٍ فَوُضِعَ لَهُ فِي الْمُصَلَّى، وَوَعَدَ النَّاسَ يَوْمًا يَخْرُجُونَ فِيهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَكَبَّرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّكُمْ شَكَوْتُمْ جَدْبَ دِيَارِكُمْ وَاسْتِئْخَارَ الْمَطَرِ عَنْ إِبَّانِ زَمَانِهِ عَنْكُمْ، وَقَدْ أَمَرَكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَدْعُوهُ وَوَعَدَكُمْ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ، ثُمَّ قَالَ: 0 الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ 0 لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِينٍ"، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمْ يَزَلْ فِي الرَّفْعِ حَتَّى بَدَا بَيَاضُ إِبِطَيْهِ، ثُمَّ حَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ وَقَلَبَ، أَوْ حَوَّلَ رِدَاءَهُ، وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، وَنَزَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَأَنْشَأَ اللَّهُ سَحَابَةً فَرَعَدَتْ وَبَرَقَتْ، ثُمَّ أَمْطَرَتْ بِإِذْنِ اللَّهِ، فَلَمْ يَأْتِ مَسْجِدَهُ حَتَّى سَالَتِ السُّيُولُ، فَلَمَّا رَأَى سُرْعَتَهُمْ إِلَى الْكِنِّ ضَحِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، فَقَالَ:" أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَأَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِسْنَادُهُ جَيِّدٌ، أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَقْرَءُونَ 0 مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ 0 وَإِنَّ هَذَا الْحَدِيثَ حُجَّةٌ لَهُمْ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش نہ ہونے کی شکایت کی تو آپ نے منبر (رکھنے) کا حکم دیا تو وہ آپ کے لیے عید گاہ میں لا کر رکھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ایک دن عید گاہ کی طرف نکلنے کا وعدہ لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (حجرہ سے) اس وقت نکلے جب کہ آفتاب کا کنارہ ظاہر ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے، اللہ تعالیٰ کی تکبیر و تحمید کی پھر فرمایا: ”تم لوگوں نے بارش میں تاخیر کی وجہ سے اپنی آبادیوں میں قحط سالی کی شکایت کی ہے، اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ حکم دیا ہے کہ تم اس سے دعا کرو اور اس نے تم سے یہ وعدہ کیا ہے کہ (اگر تم اسے پکارو گے) تو وہ تمہاری دعا قبول کرے گا“، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی: «الحمد لله رب العالمين * الرحمن الرحيم * ملك يوم الدين ، لا إله إلا الله يفعل ما يريد اللهم أنت الله لا إله إلا أنت الغني ونحن الفقراء أنزل علينا الغيث واجعل ما أنزلت لنا قوة وبلاغا إلى حين» یعنی ”تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں جو رحمن و رحیم ہے اور روز جزا کا مالک ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ جو چاہتا ہے، کرتا ہے، اے اللہ! تو ہی معبود حقیقی ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو غنی ہے اور ہم فقیر ہیں، تو ہم پر باران رحمت نازل فرما اور جو تو نازل فرما اسے ہمارے لیے قوت (رزق) بنا دے اور ایک مدت تک اس سے فائدہ پہنچا“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور اتنا اوپر اٹھایا کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگی، پھر حاضرین کی طرف پشت کر کے اپنی چادر کو پلٹا، آپ اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور اتر کر دو رکعت پڑھی، اسی وقت (اللہ کے حکم سے) آسمان سے بادل اٹھے، جن میں گرج اور چمک تھی، پھر اللہ کے حکم سے بارش ہوئی تو ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مسجد نہیں آ سکے تھے کہ بارش کی کثرت سے نالے بہنے لگے، جب آپ نے لوگوں کو سائبانوں کی طرف بڑھتے دیکھا تو ہنسے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے اور فرمایا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند جید (عمدہ) ہے، اہل مدینہ «ملك يوم الدين» پڑھتے ہیں اور یہی حدیث ان کی دلیل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1173]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ بارش نہیں ہو رہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز گاہ میں منبر رکھنے کا حکم دیا اور لوگوں سے ایک دن کا وعدہ کیا کہ وہ اس میں باہر آئیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس روز (نماز استسقاء کے لیے) اس وقت نکلے جب سورج کا کنارہ ظاہر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے اور اللہ عزوجل کی تکبیر و تحمید کی، پھر فرمایا: ”تم نے شکایت کی ہے کہ تمہارے علاقے خشک ہو رہے ہیں اور بارش میں اپنی آمد کے وقت سے تاخیر ہو رہی ہے، تو اللہ عزوجل نے تمہیں حکم دیا ہے کہ اسے پکارو، اور تم سے اس کا وعدہ ہے کہ وہ قبول کرے گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿٢﴾ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ﴿٣﴾ مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ [سورة الفاتحة: 2-4] کی تلاوت کی جس کا ترجمہ ہے: ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، بے انتہا رحم کرنے والا اور مہربان ہے، روزِ جزا کا بادشاہ ہے۔“ پھر فرمایا: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِينٍ» ”اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اے اللہ! تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں، تو غنی اور بے پروا ہے اور ہم فقیر و محتاج ہیں، ہم پر بارش نازل فرما اور جو تو نازل فرمائے اسے ہمارے لیے قوت اور ایک وقت تک کے لیے گزران بنا دے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور اٹھاتے گئے، حتیٰ کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دینے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف پیٹھ کر لی (یعنی قبلہ رخ ہو گئے) اور اپنی چادر پلٹائی جب کہ آپ اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے، بعد ازاں لوگوں کی طرف منہ کیا اور منبر سے اتر آئے اور دو رکعتیں پڑھائیں۔ تب اللہ نے ایک بدلی پیدا فرمائی، وہ کڑکی اور چمکی اور اللہ کے حکم سے برسنے لگی، آپ اپنی مسجد تک نہ پہنچے تھے کہ نالے بہنے لگے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ سایوں اور چھپروں کی طرف جلدی جلدی بھاگ رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے، حتیٰ کہ آپ کی ڈاڑھیں نظر آنے لگیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ امام ابوداؤد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے (یعنی اس کے رواۃ میں تفرد ہے) اور سند کے اعتبار سے جید (عمدہ) ہے (یعنی اس میں کوئی علت قادحہ نہیں) اور یہ حدیث اہل مدینہ کی دلیل ہے کہ وہ لوگ «مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ» پڑھتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1173]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17340) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1508)
قال ابو داود: ’’ھذا حديث غريب إسناده جيد‘‘
مشكوة المصابيح (1508)
قال ابو داود: ’’ھذا حديث غريب إسناده جيد‘‘
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1173
| شكوتم جدب دياركم واستئخار المطر عن إبان زمانه عنكم وقد أمركم الله أن تدعوه ووعدكم أن يستجيب لكم ثم قال الحمد لله رب العالمين الرحمن الرحيم ملك يوم الدين لا إله إلا الله يفعل ما يريد اللهم أنت الله لا إله إلا أنت الغني ونحن الفقراء أنزل علينا |
Sunan Abi Dawud Hadith 1173 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق