سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب من قال إذا صلى ركعة
باب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ امام ایک رکعت پڑھ کر کھڑا رہے۔
حدیث نمبر: 1239
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ الْأَنْصَارِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّ صَلَاةَ الْخَوْفِ: أَنْ يَقُومَ الْإِمَامُ، وَطَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَطَائِفَةٌ مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، فَيَرْكَعُ الْإِمَامُ رَكْعَةً وَيَسْجُدُ بِالَّذِينَ مَعَهُ، ثُمَّ يَقُومُ، فَإِذَا اسْتَوَى قَائِمًا ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمُ الرَّكْعَةَ الْبَاقِيَةَ، ثُمَّ سَلَّمُوا وَانْصَرَفُوا وَالْإِمَامُ قَائِمٌ، فَكَانُوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ، ثُمَّ يُقْبِلُ الْآخَرُونَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا فَيُكَبِّرُونَ وَرَاءَ الْإِمَامِ فَيَرْكَعُ بِهِمْ وَيَسْجُدُ بِهِمْ، ثُمَّ يُسَلِّمُ فَيَقُومُونَ فَيَرْكَعُونَ لِأَنْفُسِهِمُ الرَّكْعَةَ الْبَاقِيَةَ، ثُمَّ يُسَلِّمُونَ. قَالَ أَبُو دَاوُد وَأَمَّا: رِوَايَةُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، نَحْوَ رِوَايَةِ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، إِلَّا أَنَّهُ خَالَفَهُ فِي السَّلَامِ، وَرِوَايَةُ عُبَيْدِ اللَّهِ، نَحْوَ رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: وَيَثْبُتُ قَائِمًا.
صالح بن خوات انصاری کہتے ہیں کہ سہل بن ابی حثمہ انصاری رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ نماز خوف اس طرح ہو گی کہ امام (نماز کے لیے) کھڑا ہو گا اور اس کے ساتھیوں کی ایک جماعت اس کے ساتھ ہو گی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے کھڑی ہو گی، امام اور جو اس کے ساتھ ہوں گے رکوع اور سجدہ کریں گے پھر امام کھڑا ہو گا، جب پورے طور سے سیدھا کھڑا ہو جائے گا تو یونہی کھڑا رہے گا یہاں تک کہ لوگ اپنی باقی (دوسری) رکعت بھی ادا کر لیں گے، پھر وہ لوگ سلام پھیر کر واپس چلے جائیں گے اور امام کھڑا رہے گا، اب یہ دشمن کے سامنے ہوں گے اور جن لوگوں نے نماز نہیں پڑھی ہے، وہ آئیں گے اور امام کے پیچھے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہیں گے پھر وہ ان کے ساتھ رکوع اور سجدہ کر کے اپنی دوسری رکعت پوری کرے گا پھر سلام پھیر دے گا، اس کے بعد یہ لوگ کھڑے ہو کر اپنی باقی رکعت ادا کریں گے پھر سلام پھیریں گے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: رہی قاسم سے مروی یحییٰ بن سعید کی روایت تو وہ یزید بن رومان کی روایت ہی کی طرح ہے سوائے اس کے کہ انہوں نے سلام میں اختلاف کیا ہے اور عبیداللہ کی روایت یحییٰ بن سعید کی روایت کی طرح ہے اس میں ہے کہ ”(امام) کھڑا رہے گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1239]
صالح بن خوات انصاری سے روایت ہے کہ سیدنا سہل بن حثمہ انصاری رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ نماز خوف (کا طریقہ) یہ ہے کہ ”امام اور اس کے ساتھیوں کا ایک گروہ (نماز کے لیے) کھڑے ہو جائیں اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابلے میں کھڑا رہے۔ امام اپنے ساتھ والوں کے ساتھ رکوع کرے اور سجدہ کرے، پھر جب اٹھے تو کھڑا ہی رہے اور مقتدی اپنے طور پر دوسری رکعت پڑھیں، پھر سلام پھیریں اور امام کھڑا رہے اور یہ دشمن کے مقابل چلے جائیں پھر دوسرا گروہ آ جائے جنہوں نے ابھی نماز شروع نہیں کی تھی، پس وہ امام کے پیچھے تکبیر کہہ کر (نماز شروع کر دیں) پھر امام ان کو رکوع اور سجدہ کرائے، پھر سلام پھیرے اور یہ لوگ کھڑے ہو کر اپنی بقیہ رکعت پڑھیں اور پھر سلام پھیریں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”یحییٰ بن سعید کی قاسم سے روایت یزید بن رومان کی روایت کی مانند ہے، صرف سلام کے بارے میں اختلاف کیا ہے اور عبیداللہ کی روایت یحییٰ بن سعید کی روایت کی مانند ہے۔“ اس (یحییٰ) کے لفظ ہیں «وَيَثْبُتُ قَائِمًا» ”یعنی امام کھڑا رہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1239]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (1237)، (تحفة الأشراف: 4645) (صحیح)» (یہ حدیث موقوف ہے اور اس سے پہلے والی مرفوع ہے، پہلی میں جو صورت مذکور ہے وہی زیادہ صحیح ہے، یعنی دوسری جماعت کا امام کے ساتھ سلام پھیرنا)
قال الشيخ الألباني: صحيح خ دون ذكر التسليم في الموضعين وهو موقوف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4129) صحيح مسلم (842)
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 1239 in Urdu
صالح بن خوات الأنصاري ← سهل بن أبي حثمة الأنصاري