🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب في صلاة النهار
باب: دن کی نماز کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1296
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى أَنْ تَشَهَّدَ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَأَنْ تَبَاءَسَ وَتَمَسْكَنَ وَتُقْنِعَ بِيَدَيْكَ، وَتَقُولَ: اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَهِيَ خِدَاجٌ". سُئِلَ أَبُو دَاوُدَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ مَثْنَى، قَالَ: إِنْ شِئْتَ مَثْنَى وَإِنْ شِئْتَ أَرْبَعًا.
مطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز دو دو رکعت ہے، اس طرح کہ تم ہر دو رکعت کے بعد تشہد پڑھو اور پھر اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ ظاہر کرو اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگو اور کہو: اے اللہ! اے اللہ!، جس نے ایسا نہیں کیا یعنی دل نہ لگایا، اور اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ کا اظہار نہ کیا تو اس کی نماز ناقص ہے۔ ابوداؤد سے رات کی نماز دو دو رکعت ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا: چاہو تو دو دو پڑھو اور چاہو تو چار چار۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1296]
جناب عبداللہ بن حارث، مطلب سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز دو دو رکعت ہے۔ یوں کہ تم ہر دو رکعت پر تشہد پڑھو، اپنی زاری اور مسکینی کا اظہار کرو، دونوں ہاتھ اٹھاؤ اور کہو «اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ» اے اللہ! اے اللہ! اور جو یوں نہ کرے تو اس کی یہ نماز ناقص ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ سے رات کی نماز دو رکعت ہونے کے متعلق پوچھا گیا تو کہا: چاہو تو دو دو رکعت پڑھ لو اور چاہو تو چار چار۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1296]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 172 (1325)، (تحفة الأشراف: 11288)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/167) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عبد اللہ بن نافع مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1325)
عبد اللّٰه بن نافع بن العمياء ضعفه البخاري والجمهور وضعفه راجح
وقال ابن حجر : مجهول (تقريب التهذيب:3658)
وفي سماعه من عبد اللّٰه بن الحارث نظر
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 54

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد المطلب بن ربيعة الهاشمي، أبو عتيكصحابي
👤←👥عبد الله بن الحارث الهاشمي، أبو محمد
Newعبد الله بن الحارث الهاشمي ← عبد المطلب بن ربيعة الهاشمي
ثقة
👤←👥عبد الله بن نافع بن العمياء
Newعبد الله بن نافع بن العمياء ← عبد الله بن الحارث الهاشمي
مجهول
👤←👥عمران بن أبي أنس القرشي
Newعمران بن أبي أنس القرشي ← عبد الله بن نافع بن العمياء
ثقة
👤←👥عبد ربه بن سعيد الأنصاري
Newعبد ربه بن سعيد الأنصاري ← عمران بن أبي أنس القرشي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عبد ربه بن سعيد الأنصاري
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥معاذ بن معاذ العنبري، أبو المثنى، أبو هانئ
Newمعاذ بن معاذ العنبري ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة متقن
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← معاذ بن معاذ العنبري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1296
الصلاة مثنى مثنى تشهد في كل ركعتين تباءس وتمسكن وتقنع بيديك تقول اللهم اللهم من لم يفعل ذلك فهي خداج
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1296 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1296
1296۔ اردو حاشیہ:
ملحوظہ: یہ حدیث تو ضعیف ہے مگر چار رکعات پڑھنے کا ذکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں موجود ہے جس میں رمضان کی رات کی نماز کا سوال کیا گیا تھا۔ دیکھیے: [صحيح بخاري: 1147]
لیکن دوسری روایات میں صراحت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز (نماز تہجد) دو دو رکعت ہوا کرتی تھی، سوائے وتر کے، اس لیے آپ کا زیادہ عمل دو دو کر کے ہی پڑھنے کا تھا نہ کہ چار چار کر کے پڑھنے کا۔ صرف بیان جواز کے لیے آپ نے بعض دفعہ چار چار کر کے پڑھی ہیں۔ بنابریں نوافل دو دو کر کے پڑھنا ہی زیادہ بہتر ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: [فتح البار ي: 2/618، أوائل كتاب الوتر، حديث: 990۔ 992]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1296]

اردو فتاویٰ، سنن ابی داود 1296
نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا
سوال: نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کو بدعت کہا گیا ہے، لیکن خوب تلاش کے بعد مجھے اس موضوع پر درج ذیل احادیث ملی ہیں:
➊ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جو کوئی بندہ اپنے دونوں ہتھیلیاں ہر نماز کے بعد پھیلا کر کہے: یا اللہ! یا الہی! اے ابراہیم، اسحاق، یعقو ب کے الہ، اے جبریل، میکائیل اور اسرافیل کے الہ، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میری دعا قبول فرما، میں بہت لاچار ہوں، مجھے میرے دین کے بارے میں تحفظ عطا فرما، بیشک میں آزمائش میں مبتلا ہوں، مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ دے، کیونکہ میں بہت گناہگار ہوں، میری غربت مجھ سے مٹا دے کیونکہ میں بہت ہی مسکین ہوں تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اس کے ہاتھوں کو خالی مت لوٹائے) اس روایت کو ابن سنی نے عمل الیوم واللیلہ صفحہ: (38) میں ذکر کیا ہے۔
➊ پہلی حدیث: جسے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا گیا ہے۔
اسے ابن سنی نے عمل الیوم واللیلہ صفحہ: 137 میں بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں مجھے احمد بن حسن بن ادیبویہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں ہمیں ابویعقو ب اسحاق بن خالد بن یزید بالسی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں ہمیں عبد العزیز بن عبد الرحمن بالسی نے انہوں نے خصیف سے، اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے یہ روایت بیان کی۔
اور یہ روایت انتہائی ضعیف ہے، جس کی وجہ عبد العزیز بن عبد الرحمن ہے، اس کے بارے میں ائمہ کرام کے اقوال درج ذیل ہیں:
امام احمد: اس کی احادیث مٹا دو، یہ سب جھوٹ ہیں یا انہوں نے کہا: خود ساختہ ہیں
ابن حبان: اسے کسی صورت میں بھی حجت نہیں بنایا جا سکتا
مزید کے لیے دیکھیں: [العلل 5419 اسي طرح:لسان الميزان 5267]

➋ عبداللہ بن زیبر رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنی نماز مکمل ہونے سے پہلے دعا کے لیے دونوں ہاتھ اٹھا لیے، چنانچہ جب وہ نماز سے فارغ ہو گیا تو اسے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فراغت پانے سے پہلے دعا کے لیے ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے
اس روایت کو طبرانی نے معجم میں بیان کیا ہے، اور ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اسے صحیح کہا ہے۔
➋ دوسری حدیث: جسے عبداللہ بن زیبر سے روایت کیا گیا ہے
اسے طبرانی نے معجم الکبیر (14/266) میں روایت کیا ہے، اس کی سند یہ ہے: ہمیں حدیث بیان کی سلیمان بن حسن عطار نے، وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ابوکامل جحدری نے، وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی فضیل بن سلیمان نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی محمد بن ابی یحیی۔۔۔
یہ سند بھی دو وجوہات کی بنا پر ضعیف ہے:
1- محمد بن ابی یحیی اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے درمیان انقطاع ہے، کیونکہ غالب گمان یہی ہے کہ محمد نے ابن زبیر سے سنا ہی نہیں ہے اس لیے کہ محمد بن ابی یحیی کی وفات 144 ھ میں ہے، اور عبداللہ بن زبیر کی وفات 72 ھ میں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے التهذيب (5/310) میں یہ کہا ہے کہ: محمد بن ابی یحیی کی ایک روایت کی نسبت عبداللہ بن زبیر یا کسی اور صحابی سے کی جاتی ہے، پھر ابن حجر نے یہ بالجزم کہا ہے کہ محمد بن ابی یحیی تابعین سے ہی روایت کرتا ہے، پھر کچھ تابعین کے نام ذکر بھی کیے۔
اس سے یہ بات مزید پختہ ہو جاتی ہے کہ سند میں انقطاع ہے، اور کچھ راویوں نے درمیان میں سے راوی کو گرا دیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ شیخ بکر ابوزید رحمہ اللہ کہتے ہیں:
اس حدیث کی سند میں محمد بن ابی یحیی اسلمی اور عبداللہ بن زبیر کے درمیان انقطاع ہے انتہی [تصحيح الدعاء ص/440]
2- فضیل بن سلیمان کو بہت سے ائمہ کرام نے ضعیف قرار دیا ہے، مثلاًً: ابن معین، عبد الرحمن بن مہدی، نسائی، اور دیگر ائمہ کرام۔
ان کی گفتگو جاننے کے لیے دیکھیں: تهذيب التهذيب (4/481)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنی کتاب تقريب التهذيب(5462) میں علمائے کرام کی گفتگو کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے اسے ضعیف ہی لکھا ہے، چنانچہ کہا: «صدوق له خطأ كثير» یہ راوی صدوق ہے لیکن اس کی غلطیاں بہت زیادہ ہیں۔ [انتهي]
اور فضیل بھی سلیمان کی کچھ روایات کو امام بخاری رحمہ اللہ کی جانب سے اپنی صحیح میں جگہ دینا، اس کے ثقہ ہونے کی دلیل نہیں ہے، کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ اس کی روایات کو خوب چھان پھٹک کر، دیگر روایوں کی طرف سے شواہد کی موجودگی میں قبول کرتے تھے۔
دیکھیں: [منهج الإمام البخاري فى تصحيح الأحاديث وتعليليها از: ابوبكر كافي ص/154]

➌ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرنے کے بعد اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، آپ اس وقت قبلہ رخ تھے، آپ نے فرمایا: (یا اللہ! کمزور مسلمانوں کو مشرکوں کی قید سے آزاد فرما) یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی سے ملتے جلتے الفاظ کہے تھے۔
اس روایت کو ابن ابی حاتم اور ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں نے ذکر کیا ہے۔
➌ تیسری حدیث:
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرنے کے بعد اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، آپ اس وقت قبلہ رخ تھے، پھر آپ نے فرمایا: (یا اللہ! ولید بن ولید، عیاش بن ابی ربیعہ، سلمہ بن ہشام، اور لاچار کمزور مسلمانوں کو مشرکین کے چنگل سے آزاد فرما۔)
اس روایت کو ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر: (3/1048) میں اس سند کے ساتھ نقل کیا ہے: ابن ابی حاتم کہتے ہیں مجھے میرے والد نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں مجھے ابومعمر المنقری نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ مجھے عبد الوارث نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں مجھے علی بن زید نے بیان کیا، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے ابوہریرہ سے یہ روایت نقل کی۔
شیخ بکر ابوزید رحمہ اللہ کہتے ہیں:
اس حدیث کا مرکزی راوی علی بن زید بن جدعان ہے، جس کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے، اور اگر اس حدیث کو صحیح مان بھی لیا جائے تو یہ ایک وقتی اور عارضی عمل تھا، آپکا مستقل طریقہ کار نہیں تھا، (یہ بات واضح ہے کہ) دونوں میں فرق ہوتا ہے انتہی [تصحيح الدعاء ص/443]

➍ ابووداعہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (رات کی نماز دو، دو رکعت ہے، ہر دو رکعتوں میں تشہد بیٹھو، اپنی مسکینی، اور تنگی کا اظہار ہاتھ اٹھا کر کرو، اور کہو: یا اللہ! مجھے بخش دے، جو شخص ایسانہیں کریگا، اس کی نماز ناقص ہے) [سنن ابوداود، سنن ابن ماجه]
➍ چوتھی حدیث:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (رات کی نماز دو، دو رکعت ہے، ہر دو رکعتوں میں تشہد بیٹھو، اپنی مسکینی، اور تنگی کا اظہار ہاتھ اٹھا کر کرو، اور کہو: یا اللہ! مجھے بخش دے، جو شخص ایسانہیں کریگا، اس کی نماز ناقص ہے۔) [سنن ابوداود 1296]
حدیث کی سند ضعیف ہے، اس میں عبداللہ بن نافع راوی ہے، جس کے بارے میں علی بن مدینی کہتے ہیں: یہ راوی مجہول ہے
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تقریب التہذیب (3682) میں بھی یہی کہا ہے۔
اسی راوی کی وجہ سے البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ضعیف ابوداود میں ضعیف قرار دیا ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: ضعیف ابوداود – اصل (اصل سے مراد الامہے۔) [2/52]
مندرجہ بالا تفصیل سے واضح ہو گیا کہ سوال میں ذکر کردہ احادیث ثابت نہیں ہیں، اور اگر ان میں سے کسی حدیث کو صحیح مان بھی لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض نمازوں کے بعد دعا عارضی اور وقتی ضرورت کی وجہ سے فرمائی تھی، آپ مستقل طور پر ہر نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا نہیں فرماتے تھے۔
واللہ اعلم۔
۔۔۔ اصل مضمون۔۔۔
اسلام کیو اے
[اسلام کیو اے، حدیث/صفحہ نمبر: 999]

Sunan Abi Dawud Hadith 1296 in Urdu