پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب صلاة التسبيح
باب: نماز التسبیح کا بیان۔
حدیث نمبر: 1298
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ الْأُبُلِّيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ أَبُو حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ يَرَوْنَ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْتِنِي غَدًا أَحْبُوكَ وَأُثِيبُكَ وَأُعْطِيكَ" حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ يُعْطِينِي عَطِيَّةً، قَالَ:" إِذَا زَالَ النَّهَارُ، فَقُمْ فَصَلِّ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ"، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ:" ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ، يَعْنِي مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ، فَاسْتَوِ جَالِسًا وَلَا تَقُمْ حَتَّى تُسَبِّحَ عَشْرًا، وَتَحْمَدَ عَشْرًا، وَتُكَبِّرَ عَشْرًا، وَتُهَلِّلَ عَشْرًا، ثُمَّ تَصْنَعَ ذَلِكَ فِي الْأَرْبَعِ رَكَعَاتِ، قَالَ: فَإِنَّكَ لَوْ كُنْتَ أَعْظَمَ أَهْلِ الْأَرْضِ ذَنْبًا غُفِرَ لَكَ بِذَلِكَ" قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أُصَلِّيَهَا تِلْكَ السَّاعَةَ؟ قَالَ:" صَلِّهَا مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ خَالُ هِلَالٍ الرَّأْيِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مَوْقُوفًا، وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ الْمُسَيَّبِ،وَجَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ رَوْحٍ: فَقَالَ: حَدِيثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوالجوزاء کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک ایسے شخص نے جسے شرف صحبت حاصل تھا حدیث بیان کی ہے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما تھے، انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کل تم میرے پاس آنا، میں تمہیں دوں گا، عنایت کروں گا اور نوازوں گا“، میں سمجھا کہ آپ مجھے کوئی عطیہ عنایت فرمائیں گے (جب میں کل پہنچا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سورج ڈھل جائے تو کھڑے ہو جاؤ اور چار رکعت نماز ادا کرو“، پھر ویسے ہی بیان کیا جیسے اوپر والی حدیث میں گزرا ہے، البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ: ”پھر تم سر اٹھاؤ یعنی دوسرے سجدے سے تو اچھی طرح بیٹھ جاؤ اور کھڑے مت ہو یہاں تک کہ دس دس بار تسبیح و تحمید اور تکبیر و تہلیل کر لو پھر یہ عمل چاروں رکعتوں میں کرو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اہل زمین میں سب سے بڑے گنہگار ہو گے تو بھی اس عمل سے تمہارے گناہوں کی بخشش ہو جائے گی“، میں نے عرض کیا: اگر میں اس وقت یہ نماز ادا نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو رات یا دن میں کسی وقت ادا کر لو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حبان بن ہلال: ہلال الرای کے ماموں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے مستمر بن ریان نے ابوالجوزاء سے انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ نیز اسے روح بن مسیب اور جعفر بن سلیمان نے عمرو بن مالک نکری سے، عمرو نے ابوالجوزاء سے ابوالجوزاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی موقوفاً روایت کیا ہے، البتہ راوی نے روح کی روایت میں «فقال حديث عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم » (تو ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی) کے جملے کا اضافہ کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1298]
جناب ابوالجوزاء کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک صحابی نے بیان کیا جنہیں لوگ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سمجھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کل میرے پاس آنا میں تمہیں ایک ہدیہ دوں گا، عطیہ دوں گا۔“ مجھے خیال ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی مال عنایت فرمائیں گے۔ (میں حاضر ہوا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سورج ڈھل جائے تو کھڑے ہو جاؤ اور چار رکعتیں پڑھو۔“ اور مذکورہ بالا کی مانند ذکر کیا۔ اس روایت میں کہا: ”جب تم دوسرے سجدے سے سر اٹھاؤ تو ٹھیک طرح سے بیٹھ جاؤ اور دس بار «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، دس بار «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“، دس بار «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ اور دس بار «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ پڑھو۔ جب تک یہ نہ پڑھ لو کھڑے نہ ہو۔ اور پھر چاروں رکعتوں میں ایسے ہی کرو۔“ فرمایا: ”اگر تم اہل زمین میں سب سے زیادہ گناہ گار بھی ہوئے تو اس سے وہ سب معاف کر دیے جائیں گے۔“ میں نے کہا: اگر میں اس وقت میں نہ پڑھ سکوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات دن میں کسی بھی وقت پڑھ لو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حبان بن ہلال، ہلال الرائی (الرازی) کے ماموں ہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اس روایت کو مستمر بن ریان نے ابوالجوزاء سے، انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے موقوفاً بیان کیا ہے۔ اور اسے روح بن مسیب اور جعفر بن سلیمان نے عمرو بن مالک نکری سے، انہوں نے ابوالجوزاء سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان کا قول بیان کیا ہے۔“ روح کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے۔“ (میری اپنی بات نہیں ہے) یعنی مجھے حدیث نبوی کہہ کر بیان کی گئی۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1298]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8606) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عمرو بن مالك النكري يحدث عن أبي الجوزاء عن ابن عباس قدر عشرة أحاديث غير محفوظة،قاله ابن عدي في الكامل (401/1،نسخة أخري: 108/2)
والحديث الآتي (الأصل : 1299) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 54
إسناده ضعيف
عمرو بن مالك النكري يحدث عن أبي الجوزاء عن ابن عباس قدر عشرة أحاديث غير محفوظة،قاله ابن عدي في الكامل (401/1،نسخة أخري: 108/2)
والحديث الآتي (الأصل : 1299) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 54
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1298
| ائتني غدا أحبوك وأثيبك وأعطيك حتى ظننت أنه يعطيني عطية قال إذا زال النهار فقم فصل أربع ركعات فذكر نحوه قال ثم ترفع رأسك يعني من السجدة الثانية فاستو جالسا ولا تقم حتى تسبح عشرا وتحمد عشرا وتكبر عشرا وتهلل عشرا ثم تصنع ذلك في الأربع ركعات قال فإنك لو كن |
Sunan Abi Dawud Hadith 1298 in Urdu
أوس بن عبد الله الربعي ← عبد الله بن عمرو السهمي