سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب من لم ير السجود في المفصل
باب: مفصل میں سجدہ نہ ہونے کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1403
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: رَأَيْتُهُ بِمَكَّةَ، حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمْ يَسْجُدْ فِي شَيْءٍ مِنْ الْمُفَصَّلِ مُنْذُ تَحَوَّلَ إِلَى الْمَدِينَةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مکہ سے مدینہ آ جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مفصل (سورتوں) میں سے کسی سورۃ میں سجدہ نہیں کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1403]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ تشریف لانے کے بعد جزء مفصل میں کسی مقام پر سجدہ نہیں کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1403]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:6216) (ضعیف)» (اس کے راوی ابوقدامہ حارث بن عبید اور مطر وراق حافظہ کے بہت کمزور راوی ہیں)
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث امام مالک کی دلیل ہے، لیکن یہ ضعیف ہے، جیسا کہ تخریج سے واضح ہے، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث (۱۴۰۷) جو آگے آ رہی ہے کے معارض ہے، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ متاخر الاسلام ہیں، انہوں نے ساتویں ہجری میں اسلام قبول کیا ہے، نیز ان کی حدیث صحیحین میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو قدامة الحارث بن عبيد : ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 56
إسناده ضعيف
أبو قدامة الحارث بن عبيد : ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 56
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1403
| لم يسجد في شيء من المفصل منذ تحول إلى المدينة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1403 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1403
1403. اردو حاشیہ: یہ روایت ضعیف ہے۔ تاہم صحیح حدیث آگے آرہی ہے۔ (حديث نمبر 1407)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1403]
Sunan Abi Dawud Hadith 1403 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي