سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب كم الوتر
باب: وتر میں کتنی رکعت ہے؟
حدیث نمبر: 1422
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي قُرَيْشُ بْنُ حَيَّانَ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوِتْرُ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيَفْعَلْ".
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وتر ہر مسلمان پر حق ہے جو پانچ پڑھنا چاہے پانچ پڑھے، جو تین پڑھنا چاہے تین پڑھے اور جو ایک پڑھنا چاہے ایک پڑھے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1422]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/قیام اللیل 34 (171)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 123 (1190)، (تحفة الأشراف:3480)، وقد أخرجہ: مسند احمد 5/418، سنن الدارمی/الصلاة 210(1626) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1265)
أخرجه النسائي (1712) والزھري صرح بالسماع عند ابن ماجه (1190 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (1265)
أخرجه النسائي (1712) والزھري صرح بالسماع عند ابن ماجه (1190 وسنده صحيح)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو أيوب الأنصاري، أبو أيوب | صحابي | |
👤←👥عطاء بن يزيد الجندعي، أبو يزيد، أبو محمد عطاء بن يزيد الجندعي ← أبو أيوب الأنصاري | ثقة | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عطاء بن يزيد الجندعي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥بكر بن وائل الليثي بكر بن وائل الليثي ← محمد بن شهاب الزهري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥قريش بن حيان العجلي، أبو بكر قريش بن حيان العجلي ← بكر بن وائل الليثي | ثقة | |
👤←👥عبد الرحمن بن المبارك العيشي، أبو محمد، أبو بكر عبد الرحمن بن المبارك العيشي ← قريش بن حيان العجلي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1711
| الوتر حق فمن شاء أوتر بسبع ومن شاء أوتر بخمس ومن شاء أوتر بثلاث ومن شاء أوتر بواحدة |
سنن النسائى الصغرى |
1712
| الوتر حق فمن شاء أوتر بخمس ومن شاء أوتر بثلاث ومن شاء أوتر بواحدة |
سنن النسائى الصغرى |
1713
| الوتر حق فمن أحب أن يوتر بخمس ركعات فليفعل ومن أحب أن يوتر بثلاث فليفعل ومن أحب أن يوتر بواحدة فليفعل |
سنن أبي داود |
1422
| الوتر حق على كل مسلم فمن أحب أن يوتر بخمس فليفعل ومن أحب أن يوتر بثلاث فليفعل ومن أحب أن يوتر بواحدة فليفعل |
سنن ابن ماجه |
1190
| الوتر حق فمن شاء فليوتر بخمس ومن شاء فليوتر بثلاث ومن شاء فليوتر بواحدة |
بلوغ المرام |
293
| الوتر حق على كل مسلم من أحب أن يوتر بخمس فليفعل ومن أحب أن يوتر بثلاث فليفعل ومن أحب أن يوتر بواحدة فليفعل |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1422 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، سنن ابوداود 1422
ایک رکعت وتر پڑھنا بھی صحیح ہے اور تین رکعت وتر پڑھنا بھی صحیح ہے۔
دیکھئے: [سنن ابي داود 1422 سنن النسائي 1712 اور هدية المسلمين ص62 ح26]
سیدنا ابوایو ب الانصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص تین وتر پڑھنا چاہے تو تین پڑھے اور جو شخص ایک وتر پڑھنا چاہے تو ایک وتر پڑھے۔ [سنن النسائي 238/3۔ 239 ح1713، وسنده صحيح]
تین رکعت وتر پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیں پھر ایک وتر پڑھیں۔ دیکھئے: [صحيح مسلم ج1 ص254 ح738، صحيح ابن حبان، الاحسان: 2426 اور هدية المسلمين ص62، 63]
ایک روایت میں آیا ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی تین رکعتیں پڑھتے تھے اور سلام صرف پخری رکعت کے بعد پھیرتے تھے۔“ الخ [المستدرك للحاكم ج1 ص304 ح1140]
اس روایت کی سند قتادہ مدلس کی تدلیس (عن) کی وجہ سے ضعیف ہے۔
ایک راوی پر جرح کرتے ہوئے ماسٹر امین اوکاڑوی نے کہا:
”اولا تو یہ سند سخت ضعیف ہے کیونکہ سند میں سعید بن ابی عروبہ مختلط ہے اور قتادہ مدلس ہے۔“ [جزء رفع اليدين كا ترجمه و تشريح ص289 ح29 تا 31]
المستدرک [304/1 ح1139] میں اس کی تائید والی روایت میں سعید بن ابی عرو بہ اور قتادہ دونوں ہیں اور دونوں نے «عن» کے ساتھ روایت کی ہے۔
لہٰذا یہ تائیدی روایت بھی مردود ہے۔
یہ کہنا کہ ”وتر کی ایک رکعت کسی حدیث سے ثابت نہیں“ بھی بالکل جھوٹ ہے۔
خلیل احمد سہارنپوری دیو بندی نے لکھا ہے: ”وتر کی ایک رکعت احادیث صحاح میں موجود ہے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہما صحابہ رضی اللہ عنہ اس کے مقرر اور مالک رحمہ الله، شافعی رحمہ الله و احمد رحمہ الله کا وہ مذہب پھر اس پر طعن کرنا مؤلف کا ان سب پر طعن ہے کہو اب ایمان کاکیا ٹھکانا۔“ [براهين قاطعه ص7]
تفصیل کے لئے دیکھئے ہدیۃ المسلمین (ح26)
… اصل مضمون …
فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص77
دیکھئے: [سنن ابي داود 1422 سنن النسائي 1712 اور هدية المسلمين ص62 ح26]
سیدنا ابوایو ب الانصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص تین وتر پڑھنا چاہے تو تین پڑھے اور جو شخص ایک وتر پڑھنا چاہے تو ایک وتر پڑھے۔ [سنن النسائي 238/3۔ 239 ح1713، وسنده صحيح]
تین رکعت وتر پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیں پھر ایک وتر پڑھیں۔ دیکھئے: [صحيح مسلم ج1 ص254 ح738، صحيح ابن حبان، الاحسان: 2426 اور هدية المسلمين ص62، 63]
ایک روایت میں آیا ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی تین رکعتیں پڑھتے تھے اور سلام صرف پخری رکعت کے بعد پھیرتے تھے۔“ الخ [المستدرك للحاكم ج1 ص304 ح1140]
اس روایت کی سند قتادہ مدلس کی تدلیس (عن) کی وجہ سے ضعیف ہے۔
ایک راوی پر جرح کرتے ہوئے ماسٹر امین اوکاڑوی نے کہا:
”اولا تو یہ سند سخت ضعیف ہے کیونکہ سند میں سعید بن ابی عروبہ مختلط ہے اور قتادہ مدلس ہے۔“ [جزء رفع اليدين كا ترجمه و تشريح ص289 ح29 تا 31]
المستدرک [304/1 ح1139] میں اس کی تائید والی روایت میں سعید بن ابی عرو بہ اور قتادہ دونوں ہیں اور دونوں نے «عن» کے ساتھ روایت کی ہے۔
لہٰذا یہ تائیدی روایت بھی مردود ہے۔
یہ کہنا کہ ”وتر کی ایک رکعت کسی حدیث سے ثابت نہیں“ بھی بالکل جھوٹ ہے۔
خلیل احمد سہارنپوری دیو بندی نے لکھا ہے: ”وتر کی ایک رکعت احادیث صحاح میں موجود ہے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہما صحابہ رضی اللہ عنہ اس کے مقرر اور مالک رحمہ الله، شافعی رحمہ الله و احمد رحمہ الله کا وہ مذہب پھر اس پر طعن کرنا مؤلف کا ان سب پر طعن ہے کہو اب ایمان کاکیا ٹھکانا۔“ [براهين قاطعه ص7]
تفصیل کے لئے دیکھئے ہدیۃ المسلمین (ح26)
… اصل مضمون …
فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص77
[فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 77]
الشيخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود، تحت الحديث 1422
فوائد و مسائل:
”وتر حق ہے، جو چاہے سات پڑھے، جو چاہے پانچ پڑھے، جو چاہے تین پڑھے، اور جو چاہے ایک پڑھے۔“ [سنن ابي داؤد 1422، سنن النسائي: 1711، سنن ابن ماجه: 1190، وسندہ صحيح]
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (2410) اور حافظ ابن الملقن (البدر المنیر: 296/4) نے ”صحیح“ قرار دیا ہے۔
امام حاکم رحمہ اللہ نے بخاری و مسلم کی شرط پر ”صحیح“ قرار دیا ہے اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
«أن النبی صلى الله عليه وسلم أوتر بركعة۔»
”نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت وتر ادا فرمایا۔“ [سنن الدارقطني: 1656، وسندہ صحيحٌ]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بیان کرتے ہیں:
«أوتر بركعة۔»
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت وتر پڑھا۔“ [صحيح ابن حبان: 2424۔ وسنده صحيحٌ]
ایک تین، پانچ اور سات وتر احناف کی نظر میں
ایک، تین، پانچ اور سات رکعات وتر پڑھناجائز ہیں۔
اب ہم مقلدین کی معتبر کتب کے حوالہ جات پیش کرتے ہیں:
➊ مشہور حنفی جناب عبدالحیئ لکھنوی صاحب لکھتے ہیں:
«وقد صحّ من جمع من الصحابة أنّهم أوتروا بواحدة، دون تقدّم نفل قبلها .»
”صحابہ کرام کی ایک جماعت سے یہ بات ثابت ہے کہ انہوں نے پہلے کوئی نفل پڑھے بغیر ایک رکعت وتر اداکیا۔“ [التعليق الممجد للكنوي: 508/1]
➋ علامہ سندھی حنفی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
«هذا صريح فى جواز الوتر بواحدة .»
”یہ حدیث ایک وتر کے جائز ہونے میں واضح ہے۔“ [حاشية السندي على النسائي: 30/2]
”وتر حق ہے، جو چاہے سات پڑھے، جو چاہے پانچ پڑھے، جو چاہے تین پڑھے، اور جو چاہے ایک پڑھے۔“ [سنن ابي داؤد 1422، سنن النسائي: 1711، سنن ابن ماجه: 1190، وسندہ صحيح]
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (2410) اور حافظ ابن الملقن (البدر المنیر: 296/4) نے ”صحیح“ قرار دیا ہے۔
امام حاکم رحمہ اللہ نے بخاری و مسلم کی شرط پر ”صحیح“ قرار دیا ہے اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
«أن النبی صلى الله عليه وسلم أوتر بركعة۔»
”نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت وتر ادا فرمایا۔“ [سنن الدارقطني: 1656، وسندہ صحيحٌ]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بیان کرتے ہیں:
«أوتر بركعة۔»
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت وتر پڑھا۔“ [صحيح ابن حبان: 2424۔ وسنده صحيحٌ]
ایک تین، پانچ اور سات وتر احناف کی نظر میں
ایک، تین، پانچ اور سات رکعات وتر پڑھناجائز ہیں۔
اب ہم مقلدین کی معتبر کتب کے حوالہ جات پیش کرتے ہیں:
➊ مشہور حنفی جناب عبدالحیئ لکھنوی صاحب لکھتے ہیں:
«وقد صحّ من جمع من الصحابة أنّهم أوتروا بواحدة، دون تقدّم نفل قبلها .»
”صحابہ کرام کی ایک جماعت سے یہ بات ثابت ہے کہ انہوں نے پہلے کوئی نفل پڑھے بغیر ایک رکعت وتر اداکیا۔“ [التعليق الممجد للكنوي: 508/1]
➋ علامہ سندھی حنفی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
«هذا صريح فى جواز الوتر بواحدة .»
”یہ حدیث ایک وتر کے جائز ہونے میں واضح ہے۔“ [حاشية السندي على النسائي: 30/2]
[۔۔۔، حدیث/صفحہ نمبر: 22]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1422
1422. اردو حاشیہ: مذکورہ بالا روایات میں وتر کی تعداد ایک ’تین‘ پانچ کا ذکر ہے، جبکہ صحیح مسلم، سنن ابن ماجہ اور سنن النسائی میں سات، نو اور گیارہ رکعت کا ذکر بھی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیں [صحيح مسلم، صلاة المسافرين، حديث: 736-737-738 وسنن النسائي، قيام الليل، حديث: 1697-1698 -1705-1707-1710 وسنن ابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث: 1190-1191-1192]
ہمارے ہاں اکثر لوگ تین وتر پڑھتے ہیں اور وہ بھی سنت کے خلاف اور ایک رکعت وتر کو صحیح نہیں سمجھتے اور ایک وتر پڑھنے والے کو بھی اچھا خیال نہیں کرتے، حالانکہ ایک رکعت وتر حدیث رسول سے ثابت ہے۔ تین رکعت وتر پڑھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا جائے اور پھر ایک رکعت وتر الگ پڑھا جائے۔ دیکھیے [سنن ابن ماجة، حدیث: 1177]
تاہم ایک سلام کے ساتھ درمیان میں تشہد کیے بغیر بھی جائز ہے۔ درمیان میں تشہد بیٹھنے سے نماز مغرب سے مشابہت ہو جاتی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مغرب کی مشابہت سے منع فرمایا ہے۔ دیکھیے: [سنن الدار قطني: 2؍27،25 وصحیح ابن حبان، حدیث:280]
ہمارے ہاں اکثر لوگ تین وتر پڑھتے ہیں اور وہ بھی سنت کے خلاف اور ایک رکعت وتر کو صحیح نہیں سمجھتے اور ایک وتر پڑھنے والے کو بھی اچھا خیال نہیں کرتے، حالانکہ ایک رکعت وتر حدیث رسول سے ثابت ہے۔ تین رکعت وتر پڑھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا جائے اور پھر ایک رکعت وتر الگ پڑھا جائے۔ دیکھیے [سنن ابن ماجة، حدیث: 1177]
تاہم ایک سلام کے ساتھ درمیان میں تشہد کیے بغیر بھی جائز ہے۔ درمیان میں تشہد بیٹھنے سے نماز مغرب سے مشابہت ہو جاتی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مغرب کی مشابہت سے منع فرمایا ہے۔ دیکھیے: [سنن الدار قطني: 2؍27،25 وصحیح ابن حبان، حدیث:280]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1422]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 293
نفل نماز کا بیان
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ” وتر ہر مسلمان پر حق ہے (اس کا ادا کرنا ضروری ہے) جسے پانچ وتر پڑھنا پسند ہو تو ایسا کرے اور جسے تین وتر پسند ہوں تو وہ اس طرح کرے اور جسے ایک وتر پڑھنا پسند ہو تو وہ ایسا کرے۔“
ترمذی کے علاوہ اسے چاروں نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے البتہ نسائی نے اس کے موقوف ہونے کو ترجیح دی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 293»
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ” وتر ہر مسلمان پر حق ہے (اس کا ادا کرنا ضروری ہے) جسے پانچ وتر پڑھنا پسند ہو تو ایسا کرے اور جسے تین وتر پسند ہوں تو وہ اس طرح کرے اور جسے ایک وتر پڑھنا پسند ہو تو وہ ایسا کرے۔“
ترمذی کے علاوہ اسے چاروں نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے البتہ نسائی نے اس کے موقوف ہونے کو ترجیح دی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 293»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الصلاة، باب كم الوتر؟، حديث:1422، والنسائي، قيام الليل، حديث:1711، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1190، وابن حبان (الموارد)، حديث:670.* المرفوع والموقوف، صحيحان كلاهما، ولم أرلمضعفه حجة.» تشریح:
1. وتر واجب ہے یا سنت؟ اس میں ائمہ کا اختلاف ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اسے واجب کہتے ہیں مگر جمہور علماء اسے سنت قرار دیتے ہیں۔
”وتر کا پڑھنا حق ہے“ کے الفاظ وجوب پر تو دلالت نہیں کرتے‘ البتہ اس کی اہمیت پر ضرور دال ہیں۔
2.ایک دوسری حدیث میں بھی ہے: «اَلْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَّمْ یُوتِرْ فَلَیْسَ مِنَّا» ”وتر برحق ہے‘ جو وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں۔
“ (سنن أبي داود‘ الوتر‘ باب فیمن لم یوتر‘ حدیث:۱۴۱۹‘ و مسند أحمد:۵ /۳۵۷) اس حدیث کو بعض محققین نے شواہد کی بنا پر حسن لغیرہ قرار دیا ہے۔
دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۳۸ / ۱۲۷‘ ۱۲۸) اس حدیث میں بھی وتر پڑھنے کی تاکید بیان کی گئی ہے مگر وجوب کا بیان نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر و حضر میں وتر پڑھے ہیں اور سواری پر بھی۔
دیکھیے: (صحیح البخاري‘ الوتر‘ باب الوتر علی الدابۃ‘ وباب الوتر في السفر‘ حدیث:۹۹۹‘ ۱۰۰۰) اور سواری پر ادا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وتر واجب نہیں۔
3.اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وتر ایک‘ تین‘ پانچ سب درست ہیں۔
احناف کا صرف تین وتر پر اکتفا کرنا صحیح اور صریح روایات کی بنا پر درست نہیں۔
«أخرجه أبوداود، الصلاة، باب كم الوتر؟، حديث:1422، والنسائي، قيام الليل، حديث:1711، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1190، وابن حبان (الموارد)، حديث:670.* المرفوع والموقوف، صحيحان كلاهما، ولم أرلمضعفه حجة.»
1. وتر واجب ہے یا سنت؟ اس میں ائمہ کا اختلاف ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اسے واجب کہتے ہیں مگر جمہور علماء اسے سنت قرار دیتے ہیں۔
”وتر کا پڑھنا حق ہے“ کے الفاظ وجوب پر تو دلالت نہیں کرتے‘ البتہ اس کی اہمیت پر ضرور دال ہیں۔
2.ایک دوسری حدیث میں بھی ہے: «اَلْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَّمْ یُوتِرْ فَلَیْسَ مِنَّا» ”وتر برحق ہے‘ جو وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں۔
“ (سنن أبي داود‘ الوتر‘ باب فیمن لم یوتر‘ حدیث:۱۴۱۹‘ و مسند أحمد:۵ /۳۵۷) اس حدیث کو بعض محققین نے شواہد کی بنا پر حسن لغیرہ قرار دیا ہے۔
دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۳۸ / ۱۲۷‘ ۱۲۸) اس حدیث میں بھی وتر پڑھنے کی تاکید بیان کی گئی ہے مگر وجوب کا بیان نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر و حضر میں وتر پڑھے ہیں اور سواری پر بھی۔
دیکھیے: (صحیح البخاري‘ الوتر‘ باب الوتر علی الدابۃ‘ وباب الوتر في السفر‘ حدیث:۹۹۹‘ ۱۰۰۰) اور سواری پر ادا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وتر واجب نہیں۔
3.اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وتر ایک‘ تین‘ پانچ سب درست ہیں۔
احناف کا صرف تین وتر پر اکتفا کرنا صحیح اور صریح روایات کی بنا پر درست نہیں۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 293]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1190
وتر میں تین، پانچ، سات اور نو رکعات پڑھنے کا بیان۔
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وتر حق (ثابت) ہے، لہٰذا جس کا جی چاہے پانچ رکعت وتر پڑھے، اور جس کا جی چاہے تین رکعت پڑھے، اور جس کا جی چاہے ایک رکعت پڑھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1190]
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وتر حق (ثابت) ہے، لہٰذا جس کا جی چاہے پانچ رکعت وتر پڑھے، اور جس کا جی چاہے تین رکعت پڑھے، اور جس کا جی چاہے ایک رکعت پڑھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1190]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1) (الوترحق)
سے بعض علماء نے وتر کے وجوب پر استدلال کیا ہے حالانکہ یہی لفظ جمعے کے غسل کےلئے بھی استعمال ہوا ہے۔
لیکن اسے واجب نہیں کہاجاتا۔
تاہم اس حدیث کی بنا پر وتر کوسنت مؤکدہ تو سمجھا ہی جا سکتا ہے۔
(2)
ایک سلام سے پانچ وتر پڑھے بھی جا سکتے ہیں۔
اورتین وتر بھی
(4)
تین وتر پڑھنے کا ارادہ ہوتو پہلے دو رکعت پڑھ کر سلام پھیرا جائے۔
پھر ایک وتر پڑھا جائے۔
یہ تین وتر پڑھنے کا افضل طریقہ ہے۔
یا پھر تین رکعتیں ایک سلام سے پڑھی جایئں جن میں دو رکعت کے بعد تشہد نہ پڑھا جائے۔
فوائد و مسائل:
(1) (الوترحق)
سے بعض علماء نے وتر کے وجوب پر استدلال کیا ہے حالانکہ یہی لفظ جمعے کے غسل کےلئے بھی استعمال ہوا ہے۔
لیکن اسے واجب نہیں کہاجاتا۔
تاہم اس حدیث کی بنا پر وتر کوسنت مؤکدہ تو سمجھا ہی جا سکتا ہے۔
(2)
ایک سلام سے پانچ وتر پڑھے بھی جا سکتے ہیں۔
اورتین وتر بھی
(4)
تین وتر پڑھنے کا ارادہ ہوتو پہلے دو رکعت پڑھ کر سلام پھیرا جائے۔
پھر ایک وتر پڑھا جائے۔
یہ تین وتر پڑھنے کا افضل طریقہ ہے۔
یا پھر تین رکعتیں ایک سلام سے پڑھی جایئں جن میں دو رکعت کے بعد تشہد نہ پڑھا جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1190]
عطاء بن يزيد الجندعي ← أبو أيوب الأنصاري