علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
55. باب في الاستنثار
باب: ناک میں پانی ڈال کر جھاڑنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 143
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ وَافِدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ، أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، قَالَ: فَلَمْ يَنْشَبْ أَنْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَلَّعُ يَتَكَفَّأُ، وَقَالَ عَصِيدَةٌ: مَكَانَ خَزِيرَةٍ.
بنی منتفق کے وفد میں شریک لقیط بن صبرہ کہتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی، اس میں یہ ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے کو جھکتے ہوئے یعنی تیز چال چلتے ہوئے تشریف لائے، اس روایت میں لفظ «خزيرة» کی جگہ «عصيدة» (ایک قسم کا کھانا) کا ذکر ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 143]
عاصم بن لقیط بن صبرہ اپنے والد (لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ) سے راوی ہیں، جو کہ وفدِ بنی منتفق کے سردار تھے کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ اس روایت میں ہے: ”ہم بیٹھے ہی تھے کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زور سے قدم اٹھاتے ہوئے، آگے کو جھک کر چلتے ہوئے تشریف لائے۔“ اور اس روایت میں «خَزِيْرَةٌ» کی بجائے «عَصِيْدَةٌ» کا ذکر ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 143]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 11172) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3260)
وانظر الحديث السابق (142)
مشكوة المصابيح (3260)
وانظر الحديث السابق (142)
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 143 in Urdu
عاصم بن أبي رزين العقيلي ← لقيط بن عامر العقيلي