یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب ( طول القيام )
باب: نماز میں دیر تک قیام کا بیان۔
حدیث نمبر: 1449
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" طُولُ الْقِيَامِ" قِيلَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" جَهْدُ الْمُقِلِّ" قِيلَ: فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ هَجَرَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ" قِيلَ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِينَ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ" قِيلَ: فَأَيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ؟ قَالَ:" مَنْ أُهَرِيقَ دَمُهُ وَعُقِرَ جَوَادُهُ".
عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز میں دیر تک کھڑے رہنا“، پھر پوچھا گیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کم مال والا محنت کی کمائی میں سے جو صدقہ دے“، پھر پوچھا گیا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی ہجرت جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جنہیں اللہ نے اس پر حرام کیا ہے“، پھر پوچھا گیا: کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کا جہاد جس نے اپنی جان و مال کے ساتھ مشرکین سے جہاد کیا ہو“، پھر پوچھا گیا: کون سا قتل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جس کا خون بہایا گیا ہو اور جس کے گھوڑے کے ہاتھ پاؤں کاٹ لیے گئے ہوں“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1449]
سیدنا عبداللہ بن حبشی الخثعمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ”کون سا عمل افضل ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لمبا قیام۔“ کہا گیا: ”کون سا صدقہ افضل ہے؟“ فرمایا: ”جو قلیل مال والا محنت کر کے صدقہ دے۔“ کہا گیا: ”کون سی ہجرت افضل ہے؟“ فرمایا: ”جو شخص اللہ کے حرام کردہ امور کو چھوڑ دے۔“ کہا گیا: ”کون سا جہاد افضل ہے؟“ فرمایا: ”جو شخص مشرکین سے اپنے مال اور اپنی جان کے ساتھ جہاد کرے۔“ پوچھا گیا: ”کون سا قتل شرف والا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا خون بہا دیا گیا اور اس کے گھوڑے کو بھی کاٹ دیا گیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1449]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظرحدیث رقم: (1325)، (تحفة الأشراف:5241) (صحیح) بلفظ: ”أي الصلاة“»
قال الشيخ الألباني: صحيح بلفظ أي الصلاة
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3833)
أخرجه النسائي (2527 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (1325)
مشكوة المصابيح (3833)
أخرجه النسائي (2527 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (1325)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1325
| أي الأعمال أفضل قال طول القيام |
سنن أبي داود |
1449
| أي الأعمال أفضل قال طول القيام أي الصدقة أفضل قال جهد المقل أي الهجرة أفضل قال من هجر ما حرم الله عليه أي الجهاد أفضل قال من جاهد المشركين بماله ونفسه أي القتل أشرف قال من أهريق دمه وعقر جواده |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1449 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1449
1449. اردو حاشیہ: اللہ اکبر صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کو دین و ایمان کی سمجھ آجانے کے بعد گویا دنیاوی خواہشات ان کےدلوں سے اُتر ہی گئی تھیں۔ روٹی۔ کپڑے۔ اور مکان کے بارے میں نہ ان حضرات نے پوچھا نہ آپ نے فرمایا۔ درحقیقت یہ چیزیں دنیا کے سفر میں راہ گزاری کے لئے ہیں۔ مگر افسوس کہ اب لوگوں کے زہنوں پر یہ مادی اشیاء بہت زیادہ غالب آگئی ہیں۔ و إلی اللہ المشتکی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1449]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1325
تہجد دو رکعت سے شروع کرنے کا بیان۔
عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(نماز میں) دیر تک کھڑے رہنا ۱؎۔“ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1325]
عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(نماز میں) دیر تک کھڑے رہنا ۱؎۔“ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1325]
1325. اردو حاشیہ: فائدہ: اور اس کا مسنون ادب یہ ہے کہ پہلی دو رکعتیں ہلکی ہوں اور یہ حدیث بالتفصیل آگے آرہی ہے۔ (حدیث:1449)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1325]
Sunan Abi Dawud Hadith 1449 in Urdu
عبيد بن عمير الجندعي ← عبد الله بن حبشي الخثعمي