سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب فَاتِحَةِ الْكِتَابِ
باب: سورۃ فاتحہ کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1457
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ أُمُّ الْقُرْآنِ، و أُمُّ الْكِتَابِ، و السَّبْعُ الْمَثَانِي".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الحمد لله رب العالمين» ام القرآن اور ام الکتاب ہے اور سبع مثانی ۱؎ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1457]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] ام القرآن ہے، ام الکتاب اور السبع المثانی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1457]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر القرآن 3 (4704)، سنن الترمذی/فضائل القرآن 1 (2825)، وتفسیر القرآن 16 (3124)، (تحفة الأشراف:13014)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح 26 (915)، مسند احمد (2/448)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 12 (3417) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: سبع اس لئے کہ اس میں سات آیتیں ہیں اور مثانی اس لئے کہ وہ ہر نماز میں دہرائی جاتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4704)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4704
| أم القرآن هي السبع المثاني والقرآن العظيم |
جامع الترمذي |
3124
| الحمد لله أم القرآن وأم الكتاب والسبع المثاني |
سنن أبي داود |
1457
| الحمد لله رب العالمين أم القرآن و أم الكتاب و السبع المثاني |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1457 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1457
1457. اردو حاشیہ: [اُم]
بمعنی اصل ہے۔ چونکہ یہ سورت مبارکہ مضامین قرآن کا خلاصہ ہے۔ بالخصوص توحید (توحید الوہیت ربوبیت۔ اسماء وصفات) رسالت اور قیامت۔ اس لئے اسے ام القرآن اور اُم الکتاب کا نام دیا گیا ہے۔ اور السبع المثانی یعنی وہ سات آیات جو بار بار دہرائی جاتی ہیں۔ سورۃ الحجر آیت۔87 میں ہے۔ [وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ]
بلا شبہ ہم نے آپ کو ساتھ آیتیں دی ہیں۔ جو بار بار دہرائی جاتی ہیں۔ اور عظمت والا قرآن دیا ہے۔
بمعنی اصل ہے۔ چونکہ یہ سورت مبارکہ مضامین قرآن کا خلاصہ ہے۔ بالخصوص توحید (توحید الوہیت ربوبیت۔ اسماء وصفات) رسالت اور قیامت۔ اس لئے اسے ام القرآن اور اُم الکتاب کا نام دیا گیا ہے۔ اور السبع المثانی یعنی وہ سات آیات جو بار بار دہرائی جاتی ہیں۔ سورۃ الحجر آیت۔87 میں ہے۔ [وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ]
بلا شبہ ہم نے آپ کو ساتھ آیتیں دی ہیں۔ جو بار بار دہرائی جاتی ہیں۔ اور عظمت والا قرآن دیا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1457]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4704
4704. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام القرآن، یعنی سورۃ الفاتحہ ہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4704]
حدیث حاشیہ:
سورۃ فاتحہ کی سات آیات ہر فرض نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہیں۔
جن کا پڑھنا ہر امام اور مقتدی کے لئے ضروری ہے جس کے پڑھے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
اسی لئے اس سورت کو سبع مثانی اور قرآن عظیم کہا گیا ہے۔
جو لوگ امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنی ناجائز کہتے ہیں ان کا قول غلط ہے۔
سورۃ فاتحہ کی سات آیات ہر فرض نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہیں۔
جن کا پڑھنا ہر امام اور مقتدی کے لئے ضروری ہے جس کے پڑھے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
اسی لئے اس سورت کو سبع مثانی اور قرآن عظیم کہا گیا ہے۔
جو لوگ امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنی ناجائز کہتے ہیں ان کا قول غلط ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4704]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4704
4704. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام القرآن، یعنی سورۃ الفاتحہ ہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4704]
حدیث حاشیہ:
1۔
سورۃ الفاتحۃ کی سات آیات ہیں جو ہر نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہیں۔
نماز کی ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے خواہ امام یا مقتدی نماز فرض ہو یا نفل سورۃ فاتحہ پڑھے بغیر نماز نہیں ہوتی جیسا کہ دیگر احادیث میں اس کی صراحت ہے۔
2۔
سورۃ الفاتحہ کو قرآن عظیم اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں پورے قرآن کی تعلیم کا خلاصہ آگیا ہے گویا سمندر کوکوزے میں بند کردیا گیا ہے۔
سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی حمدو ثنا پھر روز جزا میں سزا و جزا کا جامع بیان اس کے بعد شرک کی تمام اقسام سے کل اجتناب کا اقرار اور ہر قسم کی مدد اللہ سے مانگنے کا عہد آخر میں صراط مستقیم کا تعین اوراسے اختیار کرنے کی طلب و دعا یہی مضامین قرآن مجید میں اجمال اورتفصیل سے بیان ہوئے ہیں اور ان کے بیان کے لیے مختلف اندازاختیار کیے گئے ہیں بلکہ اس سورت کا مزید اختصار ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ ہے تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔
واللہ المستعان۔
1۔
سورۃ الفاتحۃ کی سات آیات ہیں جو ہر نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہیں۔
نماز کی ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے خواہ امام یا مقتدی نماز فرض ہو یا نفل سورۃ فاتحہ پڑھے بغیر نماز نہیں ہوتی جیسا کہ دیگر احادیث میں اس کی صراحت ہے۔
2۔
سورۃ الفاتحہ کو قرآن عظیم اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں پورے قرآن کی تعلیم کا خلاصہ آگیا ہے گویا سمندر کوکوزے میں بند کردیا گیا ہے۔
سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی حمدو ثنا پھر روز جزا میں سزا و جزا کا جامع بیان اس کے بعد شرک کی تمام اقسام سے کل اجتناب کا اقرار اور ہر قسم کی مدد اللہ سے مانگنے کا عہد آخر میں صراط مستقیم کا تعین اوراسے اختیار کرنے کی طلب و دعا یہی مضامین قرآن مجید میں اجمال اورتفصیل سے بیان ہوئے ہیں اور ان کے بیان کے لیے مختلف اندازاختیار کیے گئے ہیں بلکہ اس سورت کا مزید اختصار ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ ہے تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔
واللہ المستعان۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4704]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3124
سورۃ الحجر سے بعض آیات کی تفسیر۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورۃ الحمدللہ (فاتحہ)، ام القرآن ہے، ام الکتاب (قرآن کی اصل اساس ہے) اور «السبع المثانی» ہے (باربار دہرائی جانے والی آیتیں) ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3124]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورۃ الحمدللہ (فاتحہ)، ام القرآن ہے، ام الکتاب (قرآن کی اصل اساس ہے) اور «السبع المثانی» ہے (باربار دہرائی جانے والی آیتیں) ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3124]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث کو مؤلف نے ارشاد باری تعالیٰ:
﴿وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ﴾ (الحجر: 87) کی تفسیرمیں ذکرکیا ہے۔
وضاحت:
1؎:
اس حدیث کو مؤلف نے ارشاد باری تعالیٰ:
﴿وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ﴾ (الحجر: 87) کی تفسیرمیں ذکرکیا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3124]
Sunan Abi Dawud Hadith 1457 in Urdu
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي