سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
57. باب المسح على العمامة
باب: عمامہ (پگڑی) پر مسح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 147
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي مَعْقِلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ قِطْرِيَّةٌ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْعِمَامَةِ فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِهِ وَلَمْ يَنْقُضْ الْعِمَامَةَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے دیکھا، آپ کے سر مبارک پر قطری (یعنی قطر بستی کا بنا ہوا) عمامہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ عمامہ (پگڑی) کے نیچے داخل کیا اور عمامہ (پگڑی) کھولے بغیر اپنے سر کے اگلے حصہ کا مسح کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 147]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر ایک قطری پگڑی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ پگڑی کے نیچے کیے اور سر کے اگلے حصے کا مسح کیا اور پگڑی کو نہ کھولا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 147]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطھارة 89 (564)، (تحفة الأشراف: 1725) (ضعیف)» (اس کے راوی ”ابومعقل“ مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (564)
أبو معقل لا يعرف (ميزان الإعتدال: 576/4) مجهول (تقريب التهذيب:8381)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 18
إسناده ضعيف
ابن ماجه (564)
أبو معقل لا يعرف (ميزان الإعتدال: 576/4) مجهول (تقريب التهذيب:8381)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 18
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
147
| يتوضأ وعليه عمامة قطرية فأدخل يده من تحت العمامة فمسح مقدم رأسه ولم ينقض العمامة |
سنن ابن ماجه |
564
| توضأ وعليه عمامة قطرية فأدخل يده من تحت العمامة فمسح مقدم رأسه ولم ينقض العمامة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 147 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 147
فوائد و مسائل:
یہ روایت سنداًً ضعیف ہے۔ علاوہ ازیں اس میں پگڑی پر مسح کرنے کی صراحت بھی نہیں ہے مگر حضرت مغیرہ بن شبہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کی روایات میں صراحت ہے کہ آپ نے باقی مسح پگڑی پر پورا کیا۔ یہاں عدم ذکر نفی اصل کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ پگڑی پر مسح صحیح سنت سے ثابت ہے۔ جیسے کہ حدیث نمبر [146] میں اس کی اجازت گزری ہے اور آگے حدیث نمبر [150] میں بھی اس کی صراحت آ رہی ہے۔
یہ روایت سنداًً ضعیف ہے۔ علاوہ ازیں اس میں پگڑی پر مسح کرنے کی صراحت بھی نہیں ہے مگر حضرت مغیرہ بن شبہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کی روایات میں صراحت ہے کہ آپ نے باقی مسح پگڑی پر پورا کیا۔ یہاں عدم ذکر نفی اصل کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ پگڑی پر مسح صحیح سنت سے ثابت ہے۔ جیسے کہ حدیث نمبر [146] میں اس کی اجازت گزری ہے اور آگے حدیث نمبر [150] میں بھی اس کی صراحت آ رہی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 147]
Sunan Abi Dawud Hadith 147 in Urdu
أبو معقل ← أنس بن مالك الأنصاري